بھارت میں اومیکرون کی وجہ سے کوروناوائرس کے معاملات بڑھیں گے /امریکہ ہیلتھ ایکسپیٹ
سرینگر// ہندوستان میںکووڈ کی تیسری لہر کامرکزفروری میںنمودار ہوسکتا ہے جس میں روزانہ 5لاکھ کیس سامنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کے ایک ہیلتھ ایکسپرٹ نے بتایا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے کووڈ 19کے مثبت معاملات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ کرنٹ نیو زآ ف انڈیا کے مطابق ہندوستان میں اومیکران ویریئنٹ کی وجہ سے کورونا وبا کی تیسری لہر کا پیک فروری میں آسکتا ہے۔ امریکہ کے ایک ہیلتھ ایکسپرٹس نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق فروری میں ملک میں روزانہ کورونا کے پانچ لاکھ معاملات کے آنے کا امکان ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اومیکران ویریئنٹ سے وابستہ سنگینی ڈیلٹا ویریئنٹ کے موازنہ میں کم ہوگی۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن میں انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کے ڈائریکٹر کرسٹوفر مررے نے یہ اندازہ ظاہر کیا ہے۔ڈاکٹر مررے نے کہا کہ دنیا کے کئی ملک اومیکران کی لہر میں داخل ہوگئے ہیں۔ ہندوستان میں گزشتہ سال ڈیلٹا ویریئنٹ کی وجہ سے آئی کورونا وبا کی دوسری لہر کے موازنہ میں تیسری لہر میں کورونا انفیکشن کے زیادہ دیکھنے کو مل سکتے ہیں ، لیکن اومیکران ویرئنٹ کم خطرناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے معاملات ریکارڈ تیزی آئے گی ، لیکن بیماری کی سنگینی کے اعتبار سے یہ زیادہ موثر نہیں ہوگی۔ ہمارے پاس اس سے متعلق ایک ماڈل ہے ، جس کو ہم بعد میں جاری کریں گے۔ اس ماڈل کے مطابق ہندوستان میں کورونا وبا کی تیسری لہر کے پیک کے دوران کورونا وائرس انفیکشن کے معاملات کی تعداد روزانہ تقریبا پانچ لاکھ ہوگی۔ہندوستان میں کئی ہیلتھ ایکسپرٹس یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ہائبرڈ امیونٹی ڈیولپ ہوچکی ہے ، اس لئے اومیکران ویریئنٹ کا اثر کم ہے۔ ڈاکٹر کرسٹوفر مررے نے بتایا کہ کورونا ویکسینیشن سے لوگوں کو کافی تحفظ ملا ہے ، جس کی وجہ سے لوگ سنگین طور پر بیمار نہیں ہوئے ہیں اور اپستال میں بھرتی ہونے ، آکسیجن سپورٹ کی ضرورت و مرنے کی شرح کم دیکھنے کو ملی ہے۔ جبکہ ڈیلٹا ویریئنٹ کی وجہ سے گزشتہ سال اپریل میں حالات خراب ہوگئے تھے۔










