سرینگر// لیٹرری فورم بانڈی پورہ اور ریجنل نیوز ایجنسی شعبہکی جانب سے مشہور ناقد ،ترجمہ کار،سیرت نگاراور شاعر پروفیسر رشید نازمرحوم کی یاد میں بین الاقوامی سطح پر ایک آن لائن ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی ادبی شخصیت پر روشنی ڈالی گئی اوران کو شاندار الفاظ میںخراج عقیدت پیش کیا گیا ۔موصولہ بیان کے مطابق پروفیسر نازکی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بحثیت مہمان خصوصی پروفیسر مجروح رشیدڈائریکٹر حبہ خاتون سینٹ ای۔یو۔ایس۔ٹی نے انہیں ایک منفرد شاعر اور نثر نگا رقرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ان کی شخصیت سے کشمیری ادب کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔انہوں نے مرحوم نازکی سے اپنے درینہ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شفیق تھے اور ان کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہترین نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ترجمہ کار اور معیاری نثر لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔انہوں نے نازکی کو اپنے وقت کا ایک منفرد اسلوب رکھنے والا شاعر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نازکی نے اپنے دور میں چل رہی نظریاتی آندھی کے خلاف ایک منفرد روایتی اور متصوفانہ اسلوب برقرار رکھا۔ویبینار کے دوران نظامت کے فرائض میر طارق نے انجام دئے اور ساتھ ساتھ پروفیسر نازکی کے فنی اسلوب اور آپ کی سیرت نگاری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا- ایمیریٹس پروفیسر بنارس ہندو یونیورسٹی پروفیسر اشوک کول نے ار۔این۔اے کے ویبینار میں اپنے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے نازکی کی ادبی خدمات پر مفصل گفتگو کی آپ کا خطبہ عالمانہ تھا۔انہوں نے باریک بینی سے نازکی کی علمی وادبی خدمات کا جائزہ لیا۔انھوں نے کا کہ پروفیسر رشید نازکی نے ادبی تنظیموں کے اک مشترکہ پلیٹ فارم بنام (ادبی مرکز کمراز) کی بنیاد 1970 میں بانڈی پورہ اپنے ہم خیالوں سے مل کر ڈال دی تھی۔ان بقول پروفیسرنازکی نے بدلتے حالات کے مدنظر ایک ادیبوں کو جمع کرنے کے ایک نئے وفاق کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کا وجود عمل میں لیا جو بعد میں ایک کارواں کی شکل اختیار کرگیا۔پروفیسر کول نے نازکی کو کشمیری ادب و شاعری میں نئی جان پھونکنے کا ذریعہ گردانتے ہوئے کہا کہ نازکی نے کشمیری شاعری کو ایک نیا رنگ دے کشمیری ادب کا معیار عالمگیر بنا دیا۔اس موقعہ پرمشہور فلسفی اور دانشور ڈاکٹر معروف شاہ نے پروفیسرنازکی کو بلند پایہ ادبی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے ادب،شاعرانہ اسلوب اور نثر پاروں میں سیرت، تصوف ،فلسفہ اور مذہبیات کا رنگ چھلکتا تھا نازکی دنیا کے مشہور دانشورں جیسے انامیری شمائل،عالم خونمیری،آل احمد سرور،امین اندرابی وغیرہ سے وابستگی ہوتے ہوئے ان ہی کی طرز ادا کو مذیداستحکام بخشا۔انہوںنے کہا کہ مرحوم عالمانہ لہجے اور مخصوص اسلوب کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔آپ کی حیثیت نہ صرف بلند پایہ شاعر کی تھی بلکہ آپ اچھے ناقد بھی تھے۔امید ہے آنے والی نسل رشید نازکی مرحوم کے مقام و منہاج کو متعین کرے گی۔معروف براڈ کاسٹر وادیب محمد امین بٹ نے رشیدنازکی کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ نازکی ایک ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی بصیرت رکھنے والے انسان تھے۔انہوں نے معیاری ادب تخلیق کرنے پر زور دیتے ہوے کہا کہ موجودہ دور کے ادیبوں کو نازکی صاحب کی ادبی تخلیق کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ویبینار میں مشہور شاعر شہناز رشید،نقاد محمد یوسف مشہور اور محقق ڈاکٹر عادل محی الدین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شہناز رشید نے نازکی کی شاعری کے رموز ونکات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔محمد یوسف مشہور نے نازکی صاحب سے اپنے مراسم اور یونیورسٹی سے متعلق ان کی خدمات کا ذکر کیا۔ پروفیسر نازکی کی پانچویں برسی پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہویے پہلا ویبینار ڈاکٹر رفیق مسعودی نے آر این۔اے کے وساطت سے منعقد کیا جب کہ کشمیری اور اردو ادب کی خدمات انجام دینے والی تنظیم لیٹرری فورم بانڈی پورہ کے صوفی شوکت نے دوسرا بین الاقوامی ویبینار منعقد کروایا۔










