dooran

جموں و کشمیر میں نئی حد بندی

جموںو کشمیر میں حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کرنے والے کمیشن نے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں جس کے تحت جموں علاقہ میں اسمبلی کی چھ نشستوں کا اضافہ ہوگا جبکہ کشمیر میں محض ایک نشست کا اضافہ کیا جائیگا ۔ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اس تجویز کے مسودہ کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ در اصل اقتدار کے توازن کو بگاڑنے کیلئے یہ کام کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ از سر نو حد بندی کے معاملے میں آبادی کے تناسب کو بطور خاص ذہن میں رکھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کی جاتی ہے ۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ کا جو رد عمل سامنے آیا ہے اس کے مطابق کمیشن نے اس معاملے میں آبادی کے تناسب کو ذہن میںنہیں رکھا ہے ۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ 2011کی مردم شماری کے مطابق یہ فیصلے درست نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت ریاست میں اقتدار کے توازن کو بدلنا چاہتی ہے اسی لئے اس طرح کی کوشش کی جارہی ہے جو علاقہ اور ریاست کی سیاسی جماعتوں اور عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ جموں و کشمیر کی سابقہ اسمبلی میں جموں علاقہ میں جملہ 37 اسمبلی نشستیں تھیں جبکہ کشمیر میں جملہ 46 نشستیں تھیں۔ اس کے علاوہ لداخ میں چار نشستیں تھیں ۔ اسی وجہ سے اقتدار کا توازن کشمیر کی سمت رہا تھا تاہم اب جو نئی تجاویز پیش کی گئی ہیںان کو اگر قبول کرلیا جاتا ہے تو کشمیر میںمحض 47 نشستیں ہونگی جبکہ جموں میں43 نشستیں ہو جائیں گی ۔ جس کمیشن نے یہ تجویز تیار کی ہے اس نے آبادی کے تناسب سے حلقہ جات کی حد بندی کرنے کے معاملے میں دو نظری رویہ اختیار کیا ہے ۔ کمیشن نے جموں علاقہ میں ایک حلقہ اسمبلی کیلئے آبادی کا تناسب 1.25 لاکھ رکھا ہے جبکہ کشمیر صوبہ کیلئے یہ تناسب 1.46 لاکھ کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ از سر نو حد بندی کمیشن ایک آزادنہ ادارہ ہوتا ہے لیکن جو سفارشات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ کمیشن نے پوری غیرجانبداری کے ساتھ کام نہیں کیا ہے اور سیاسی اثر کے تحت ریاست میں اقتدار کے توازن کو تبدیل کرنے کے مقصد سے یہ کام کیا ہے ۔جہاںتک از سر نو حد بندی کمیشن کا سوال ہے اس میں جموں و کشمیر کے پانچ ارکان پارلیمنٹ کو بھی اسوسی ایٹ رکن بنایا گیا تھا لیکن یہ بے اثر رہا کیونکہ ان کی سفارشات کو قبول کرنا کمیشن کیلئے لازمی نہیں ہوتا ۔ اس طرح جو سفارشات یا تجاویز تیار کی گئی ہیں وہ سبھی گوشوں کی متفقہ رائے سے تیار نہیں ہوئی ہیں جبکہ ایسا کیا جانا چاہئے تھا کہ سبھی گوشوں کو ایک رائے بنایا جاتا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود جموں کے عوام نے آبادی کے تناسب سے حلقوں میں اضافہ کی مخالفت کی تھی کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اس سے انہیں کم نشستیں گی ۔ تاہم کمیشن نے آبادی کے تناسب سے تجویز تیار کرنے کا دعوی کیا ہے جو قابل فہم نظر نہیں آتا ۔