سرینگر//مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر ٹارگٹ حملے ہوئے ہیں، اور ان واقعات میں ملوث چار ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی عسکریت پسند کے حملے کو روکنے کے لیے ایک مضبوط سیکورٹی اور انٹیلی جنس گرڈ موجود ۔جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ4 سالوں کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 3ہزار ایک سو سترا اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2018میں 417جنگجو واقعات سے 2021 میں (30 نومبر 2021تک) 203تک کمی آئی ہے اور جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال ہے۔اْنہوں نے کہا، ’’تاہم، سرحد پار سے سپانسر کیے گئے عسکریت پسندوں کی طرف سے مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر چند ہدفی حملے ہوئے ہیں‘‘۔مذہبی اقلیتوں پر حملوں کے سلسلے میں سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان واقعات میں ملوث چار ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں۔ ایک مفرور سمیت سات ملزمان کو چارج شیٹ کیا گیا ہے۔وزیر نے کہا کہ کسی بھی عسکریت پسند کے حملے کو روکنے کے لیے ایک مضبوط سیکورٹی اور انٹیلی جنس گرڈ موجود ہے۔ اس کے علاوہ دن رات علاقے پر تسلط، گشت اور ملی ٹینٹوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ کسی بھی عسکریت پسند کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے ’ناکوں‘ پر چوبیس گھنٹے چیکنگ اور اسٹریٹجک پوائنٹس پر روڈ اوپننگ پارٹیوں کو مناسب طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔ائے نے یہ بھی کہا کہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) جموں و کشمیر حکومت نے عسکریت پسندی سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار اور موثر تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے تشکیل دی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی اے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کے لیے نوڈل ایجنسی ہوگی۔ادھرپارلمنٹ میں وزارت داخلہ نے کہا کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کل 3ہزار 117 اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی ہے۔کے این ایس کے مطابق بدھ کے روز رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کے کیشوا راؤ نے سال 2018، 2019، 2020 اور 2021 کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندو، سکھ، جین اور عیسائی اقلیتی گروپوں کی جانب سے موصول ہونے والی شہریت کی کل درخواستوں کے بارے میں سوال پوچھا تھا اور کہا تھا کہ ان میں سے کتنی درخواستیں منظور کی گئی ہیں اور کتنے لوگوں کو ہندوستانی شہریت فراہم کی گئی پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں اپنے جواب میں کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 2018 2018، 2019، 2020 اور 2021 کے دوران 8ہزار 2سو 44 ہندو، سکھ، جین اور عیسائی اقلیتی گروپوں کی جانب سے شہریت کے لئے درخواستیں موصول ہوئی جن میں سے بھارت سرکار نے 3117 افراد کو ہندوستانی شہریت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں سمیت تمام غیر ملکی شہریوں کو غیر ملکی ایکٹ، 1946، دی رجسٹریشن آف فارنرز ایکٹ، 1939، پاسپورٹ (انٹری ان انڈیا) ایکٹ، 1920 اور شہریت ایکٹ، 1955 میں موجود دفعات کے تحت ہی شہریت دی جاتی ہے۔










