وادی کے طول وارض میں پانی ،بجلی کی عدم دستیابی اور سڑکوں کی خستہ حالی کو لیکر لوگ بشمول مرد زن سڑکو ںپر آجاتے ہیں اور متعلقہ محکمہ جات کیخلاف زور دار احتجاج کرتے ہیں یہاں تک سڑکوں پر ٹریفک کی نقل حرکت بند ہوجاتی ہے اور مسافر درماندہ ہوجاتے ہیں جبکہ بیمار پریشان ہوجاتے ہیں۔لوگ تو اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن متعلقہ افسران موقعہ پر جاکر لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرتے ،برعکس اس کے احتجاج پر قابو پانے کیلئے پولیس کو موقعہ پر جانے کی ہدایت دی جاتی ہے اور پولیس امن وقانون کو برقرار رکھنے اور ٹریفک کی نقل وحرکت کو بحال کرنے کیلئے احتجاج میں شامل لوگوں کو مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرتا ہے یامجبوراً طاقت کا استعمال کرکے احتجاج میں شامل مظاہرین کو منتشر کرتے ہیں۔حالانکہ پولیس اس بات سے بخوبی واقف ہوتی ہے کہ لوگوں کے احتجاج اور مظاہرے بحر صورت حق بہ جانب ہیںاور ان کے حقو ق کا استحصال کیا جارہا ہے لیکن متعلقہ افسران کی عدم توجہی اور سرکاری ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے وہ احتجاجی مظاہرین کے بیچ میںآنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ انتظامیہ کے افسران ان عوامی معاملات ومسائل کی طرف توجہ مبذول کرنے کی زحمت گورانہیں کرتے ہیں۔جس کے نتیجے میں لوگ ’’تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ کے مصداق کے تحت سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور اپنے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ متعلقہ افسران ان کے مشکلات کاازالہ کرنے کیلئے ان کے سامنے آئیں یا نادانستہ طور کی جارہی غفلت سے بیدار ہوجائیں لیکن احتجاج کے بعد بھی ان کے کانوں میں جوء تک بھی نہیں رینگتی ہے ۔اس سلسلے میں مختلف علاقہ جات سے آئے روز کشمیر پریس سروس کو یہ شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ انتظامیہ کے دعوئوں اور وعدوں کے بیچ لوگ گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں ۔ان کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات بشمول بجلی ،پانی کی فراہمی ہویا سڑکوں کی تجدید و مرمت ہو یا دیگر ضروریات زندگی کو مہیا رکھنے کا معاملہ ہو اس کیلئے باضابطہ طور محکمہ جات قائم ہیں اور ان محکمہ جات میں کام کرنے والے افسران یا ملازمین موٹی موٹی تنخواہیں لیتے ہیں اور ان پر ان سہولیا ت کو بہم پہنچانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن نہ جانے یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے پلے کیوں جھاڑتے ہیں ؟اورصرف منظور نظر افراد کو ہر قسم کے سہولیات بہم پہنچاتے ہیں ۔جو غیر جمہوری اور غیر اصولی عمل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سرکاربلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود بھی انتظامیہ کے افسران کو جوابدہ بنانے میں ناکام ہورہی ہے ۔کیونکہ اگر افسران کو جوابدہ بنانے کا لائحہ عمل مرتب ہوتا تو شاید لوگ ان مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ افسران کو عوامی مسائل حل کرنے اور سلجھانے کیلئے جوابدہ بنائیں تاکہ عوامی مسائل حل ہونگے اور حالات پر قابوپانے کے بیچ کوئی اڑچنیں یا رکاوٹیں حائل نہ ہوںاورسرکار کو چاہئے کہ ضلع انتظامیہ کے افسران پر کڑی نگاہ رکھی جائے کہ کون کس طرح کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کا حل تلاش کیاجاسکے اور عوام کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اِنڈین سوسائٹی فارٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے جموں چپٹرکا اِفتتاح کیا
جے اینڈ کے وِکست یوتھ پارلیمنٹ۔2026
متعدد عوامی وفود نے وزیر جاوید رانا سے ملاقات کی
مشن سکل جموںوکشمیر کے ہنرمندی منظرنامے کو نئی شکل دے کر معاشی بااِختیاری کو فروغ دے گا۔نائب وزیراعلیٰ
چیف سیکرٹری کی جموںوکشمیرمیں ریکروٹمنٹ رولز میں مقررہ مدت کے اندر اِصلاحات پر زور
لیفٹیننٹ گورنر نے رام نومی کے موقعہ پر عوام کو مُبارک باد دِی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رام نومی کے موقعہ پر جموںوکشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد دِی
سکینہ اِیتو کی رام نومی کے موقعہ پرجموںوکشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد
جاوید ڈار نے لال منڈی سری نگر میں چھوٹے مویشیوں کے ہسپتال کمپلیکس کا اِفتتاح کیا
ایران کے لیے کیسے مصیبت بن گئے چینی کیمرے؟ جس کے سبب چلی گئی سپریم لیڈر کی جان










