سری نگر//کئی مغربی اورافریقی ممالک میں تیزی کیساتھ پھیلنے والی کوروناوائرس کی نئی قسم ’اومی کرون ‘ نے بھارت میں بھی اپنے پَر پھیلاناشروع کردئیے ہیں ،کیونکہ مرکزی راجدھانی نئی دہلی اورمہاراشٹرہ میں108افرادکے اومیکرون میں مبتلاء ہونے کیساتھ ہی ملک میں اس نئی وباء سے متاثرہونے والے افرادکی کل تعداد200تک پہنچ گئی جبکہ اس دوران ریاست اُڑیسہ میں 2کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزارت صحت نے منگل کی صبح کہاکہ ہندوستان میں اب تک اومیکرون کی نئی قسم کے کم از کم 200 کیس درج ہوئے ہیں۔ وزارت صحت نے کہاکہ مہاراشٹر اور دہلی میں سب سے زیادہ54،54 اومیکرون کیس رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے بعد تلنگانہمیں20اور کرناٹک ہیں19ایسے کیس درج کئے گئے ہیں۔ اس دوران ریاست اُڑیسہ میں 2کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ریاست گجرات اور کیرلامیں پہلے ہی اومیکرو نکے کئی کیس سامنے آئے ہیں۔مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے پیر کو پارلیمنٹ کو بتایا تھاکہ اومیکرون ویرینٹ کے خلاف ہندوستان میں دستیاب کوویڈ ویکسین کی تاثیر ایک ہفتے کے اندر معلوم ہو جائے گی، جب متعلقہ مطالعہ کے نتائج شائع ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاتھاکہ حکومت کسی بھی اضافے سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کر رہی ہے، جس میں پہلی اور دوسری لہروں سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے، جس میں طبی آکسیجن کی صلاحیت کو بڑھانا اور ادویات کے بفر سٹاک شامل ہیں۔دریں اثناء ایک اہم پیشرفت میں، بھارت بائیوٹیک نے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا سےCovishieldیاCovaxinکے ساتھ ویکسین لگائے گئے افرادپر بوسٹر خوراک کے طور پر اپنی’ انٹرا ناک کووڈ19‘ ویکسین کے لئے مرحلہ 3کا مطالعہ کرنے کی منظوری طلب کی ہے۔ بھارت بائیوٹیک نے ایک درخواست میں ’بی بی وی 154 اور بی بی وی 152 کی حفاظت اور مدافعتی صلاحیت کا جائزہ لینے کیلئے تیسرے مرحلے کے مطالعے کے عنوان سےSARS-CoV-2 ویکسین کے ساتھ پہلے سے ویکسین لگوانے والے شرکاء کے لیے تیسری خوراک (بوسٹر)کے عنوان سے ایک مطالعہ کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔










