Kashmiri artisan showing Christmas ornaments at his workshop in Srinagar on Tuesday, ahead of Christmas celebrations.

یورپ میں کرسمس کی تقریبات پیپر ماشی کی مختلف چیزوں کے بغیر نامکمل:مقبول حسین پیپر ماشی فنکار

سری نگر//پیپر ماشی کے معروف فنکار اقبال حسین خان کا کہنا ہے کہ یورپ میں مسیحی براداری کے مشہور تہوار ’کرسمس‘ کی تقریبات میری ہاتھ سے بنی پیر ماشی کی مختلف چیزوں کے بغیر نامکمل ہیں۔سری نگر کے علمگری بازار سے تعلق رکھنے والا 60 سالہ اقبال حسین خان کو سال 2003 میں مرکزی وزارت ٹیکسٹائیل نے ’سرٹیفکیٹ آف میرٹ‘ سے نوازا جبکہ سال2007 میں پیر ماشی کے فن میں شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کے اعزاز میں انہیں ایک قومی ایوارڈ سے بھی سر فراز کیا گیا ہے۔موصوف فنکار ان دنوں کرسمس تہوار کے پیش نظر اپنے پیپر ماشی کے ہزاروں چیزوں کو ملک کے مختلف حصوں اور یورپ کے مختلف ملکوں میں روانہ کرنے کے لئے پیک کرنے کے کام میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے پیپر ماشی کے فن اور اس کے ساتھ اپنی ذاتی وابستگی کے بارے میں یو این آئی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ فن اپنے چچا مرحوم غلام حسین سے سیکھا۔انہوں نے کہا: ’تب میں دس برس کا لڑکا تھا جب میں نے اپنے چچا مرحوم غلام حسین کے پاس جا کر یہ فن سیکھنے کے لئے زانوئے ادب تہہ کرنے شروع کر دئے‘۔اقبال حسین خان نے باقاعدہ طور پر تعلیم حاصل نہیں کی ہے لیکن فن کے ساتھ گہرے لگاؤ نے انہیں قومی ایوارڈ یافتہ فنکار ہونے کی کرسی پر براجمان کیا۔سال 2007 میں انہوں نے پیپر ماشی کا جیولری بکس تیار کیا جس سے متاثر ہو کر مرکزی وزارت ٹیکسٹائیل نے انہیں قومی ایوارڈ سے سرفراز کیا۔اقبال حسین کا کہنا ہے: ’میرے فن کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اب ’پدم شری ایوارڈ‘ کے لئے درخواست جمع کروں گا‘۔انہوں نے کہا کہ کرسمس تہوار کے پیش نظر ہمیں نہ صرف دلی کی کٹیج انڈسٹریز سے مال کے لئے آرڈرز آتے ہیں بلکہ یورپ کے مختلف ممالک سے بھی ہمیں آرڈرز آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘کرسمس تہوار کے موقع پر ہماری پیپر ماشی کی رنگین گیندیں،جیولری بکسز، گھنٹیوں، ستاروں، چاند، ٹیبل لیمپس وغیرہ کے لئے خاص طر پر آرڈرز آتے ہیں‘۔موصوف فنکار نے کہا کہ کشمیر میں پیپر ماشی کی سینکڑوں قسموں کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرسمس تہوار کے اختتام کے بعد نئے آردڑس آنے شروع ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’ان آرڈرز کو مکمل کرنے کے لئے سال بھر سیکنڑوں فنکار جن میں مرد و زن شامل ہیں، کام میں لگے رہتے ہیں۔اقبال حسین نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر آنے والے آرڈرز کو پورا کرنے کے لئے دو تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ان کا ’خان بردرس‘ کے نام سے علمگری بازار سری نگر میں اپنا یونٹ چل رہا ہے۔انہوں نے کہا: ’کشمیر میں تیار ہونے والی پیپر ماشی کی مختلف چیزیں امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور دوسرے یورپی ممالک کے بازاروں میں جاتی ہیں جہاں گاہک ان کو بہت ہی پسند کرتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا: ’یورپی ممالک کے لوگ ہماری پیپر ماشی کے چیزوں کو گھروں کی سجاوٹ کے لئے ضروری خریدتے ہیں اور ان چیزوں کے بغیر ان کے گھروں کی زیبائش نا مکمل تصور کی جاتی ہے‘۔موصوف معروف فنکار نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے گذشتہ دو برسوں کے دوران ہمارا کام کافی متاثر ہوا۔انہوں نے کہا: ’گذشتہ دو برسوں کے دوران کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہیں سے کوئی آرڈر نہیں آیا جس کے باعث مالی حالات ابتر ہوگئے‘۔اقبال حسین نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے پیپر ماشی سے وابستہ فنکاروں کے لئے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس فن کو زندہ رکھنے اور اس کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے حکومت کی مدد لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس فن کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرے گی تو یہ نہ صرف ہزاروں بے روزگار لوگوں کے لئے روزگار بہترین اور موثر ترین ذریعہ بن جائے گا بلکہ دنیا میں کشمیر کی یہ قدیم ترین ثقافت بھی مزید پھلے پھولے گی۔قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں چودہویں صدی میں حضرت میر سید علی ہمدانی (رح) کی قیادت میں ایران سے یہاں آنے والے فنکاروں نے پیپر ماشی کے فن کو متعارف کیا۔یہ فن یہاں نہ صرف روزی روٹی کا ایک ذریعہ بن گیا بلکہ یہاں کی شاندار ثقافت کی ایک شناخت بھی بن گیا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری فنکاروں نے اس فن کو سیکھا اور اپنی محنت شاقہ اور لگن سے اس کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔یو این آئی