جموں//چیئرپرسن وقف ڈیولپمنٹ کمیٹی ۔ متعدد وفود ،ڈی ڈی سی او رسابق وزیر نے راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا سے ملاقات کی اور انہیں اَپنے مسائل گوش گزار کئے۔چیئرپرسن وقف ڈیولپمنٹ کمیٹی ( مرکزی وزارتِ اقلیتی امور) ڈاکٹر درخشاں اَندرابی نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی اور جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لنگویجز اور مختلف محکموں کی ثقافتی اکائیوں کے احیاء کے لئے اُٹھائے جانے والے کئی اِقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے جموںوکشمیر میں مشن یوتھ کے کام کاج پر بھی بات چیت کی اور مستقبل میں اسے مزید متحرک اور شفاف بنانے کے اقدامات کی تجویز پیش کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اُنہیں یقین دِلایا کہ ثقافتی شعبے سے متعلق اِن کے خدشات پر غور کیا جائے گا اور اِس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اِسی طرح سابق وزیر شیام لال چودھری نے بھی لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقی ہوئے اور گھرانہ ویٹ لینڈ کی ترقی اور عوامی اہمیت سے متعلق دیگر مسائل کی وجہ سے وِلیج گھرانہ کے کسانوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ڈی ڈی سی ممبر اعجاز حسین نے لیفٹیننٹ گورنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں انہیں سری نگر اور جموں کے جی ایم سی اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو ریگولرائز کرنے ، رہبر کھیل کے اساتذہ کی ریگولرائزیشن،زیون بالا او رزیون پائین کی پتھر کی کانوں کے مسائل سے متعلق آگاہ کیا ۔دریں اثناء،ایسو سی ایشن آف ریکو گنائزڈ کالجز آف ہیلتھ سائنسز ( جے اینڈ کے ) کے صدر ایم ایس کٹوچ نے اَسامیوں کو پُر کرنے کے سلسلے میں غیر اِمدادی نجی نرسنگ اور پیرا میڈیکل کالجوں کی نمائندگی کی۔آل جموںوکشمیر پنچایت کانفرنس ( اے جے کے پی سی ) کے صدر انیل شرما نے پنچایتوں کو مالی طور پر بااِختیار بنانے کے اَپنے مطالبات کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔ اُنہوں نے پنچایت ترقیاتی فنڈ اور پنچایتوں کی ترقی کے لئے علاحدہ مالیاتی کمیشن کا مطالبہ کیا۔بعد میں صدر جموںوکشمیر برہمن سبھا اتل شرما نے مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر تعطیل اورپر شورام مندر کی تعمیر کے لئے مناسب اراضی کا مطالبہ کیا او رجموں یونیورسٹی کا نام پرم ویرچکرا پنڈت سومناتھ پنڈت کے نام پر رکھا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے وفودکے اَرکان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مساوی اور متوازن ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے وَفود کو یقین دِلایا کہ ان کی تمام تجاویز پر ترجیحی بنیاد پر غور کیا جائے گا اور ان کے اَزالے کے لئے متعلقہ محکموں کو اِرسال کیا جائے گا۔










