گزشتہ چار ماہ کے دوران 300ٹپر، ڈمپر،اور ٹریکٹر ضبط، 60لاکھ روپے جرمانہ عائد
سرینگر//دریائوں سے غیر قانونی طریقے سے ریت اور بولڈر اوربجری نکالنے کی پاداش میں محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ نے گزشتہ چار ماہ کے دوران 300کے قریب ٹپر، ڈمپر اور ٹپر ضبط کرلئے ہیںجبکہ قصور واروں سے لاکھوں روپے جرمانہ بھی وصو ل کیا جاچکا ہے ۔ اس دوران محکمہ نے کہا ہے کہ تعمیراتی مواد حاصل کرنے کیلئے مخصوص جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کے علاوہ کہیں پر بھی دریائوں سے معدنیات نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کو قدرت نے آبی ذخائر سے مالا مال کردیا ہے جہاں پربڑے بڑے دریاء جن میں نالہ لدر ، نالہ آرپتھ ، نالہ ساندرن، نالہ برنگی شامل ہیں میں بولڈر، ریت اور بجری کافی مقدار میں پائی جاتی ہے تاہم اس معدنیات کو غیر قانونی طریقے سے رات کی تاریکی میں نکالا جارہا ہے جس سے ان نالوں کی خوبصورتی تباہ ہورہی ہے جبکہ دریائوں میں پائی جارہی نایاب مچھلیوں کی اقسام بھی نابود ہورہی ہے ۔ اس طرح سے غیر قانونی طریقے سے مواد حاصل کرنے والوں کے خلاف محکمہ جیالوجی اینڈ مایننگ نے کارروائی شروع کررکھی ہے ۔ اس ضمن میں سی این آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ منرل آفیسر سہیل احمد نے بتایا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران غیر قانونی طریقے سے معدنیات حاصل کرنے والوں سے قریب 60لاکھ روپے بطور جرمانہ وصول کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت میں محکمہ نے ضلع میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران 300ٹپر، ڈمپر، اور ٹریکٹر کے علاوہ 20جے سی بی بھی ضبط کرلئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ معدنیات کو نکالنے کیلئے مخصوص جگہوں کا تعین کیا ہے جہاں سے معدنیات نکالی جاسکتی ہے تاہم اس کیلئے محکمہ کی جانب سے باضابطہ بولی لگائی جائے گی اور یہ عمل جلد شروع کیا جائیگا۔ا ور ان جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ مواد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔










