کھوئی ہوئی شان کو بحال کرنے کیلئے سری نگر کے قدیم ترین چرچ کو نئی شکل دی گئی
سری نگر/سری نگر کا قدیم ترین چرچ سینٹ لوکس چرچ اس سال کرسمس کی تقریبات سے قبل اپنی کھوئی ہوئی شان کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے تیار ہے۔چرچ کی چھت کو مشہور کشمیری ’ختم بند‘کے ٹکڑوں کے ساتھ دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔معمار، بڑھئی، کاریگر، مزدور پتھر اور اینٹوں کی چنائی کے ڈھانچے کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو کئی دہائیوں سے بوسیدہ تھا۔جے کے این ایس کے مطابق شہرکے ڈل گیٹ علاقہ میں واقع صدیوں پرانے چرچ کی تزئین و آرائش کا کام جموں و کشمیر حکومت کے زیر اہتمام فن تعمیر اور ورثہ اسکیم کے تحفظ اور دیکھ بھال کے تحت شروع کیا گیا تھا۔قدیم ترین چرج کے تعمیرنوکام میں شامل ایک کاریگریا معمارنے کہا کہ عمارت کی اینٹوں کے درمیان موجود خلاء کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کیلئے اس کی تعمیر کے دوران استعمال ہونے والے اسی طرح کے مواد سے بھرنے میں مصروف ہیں۔انہوںنے خبررساں ایجنسی یواین آئی کوبتایا کہ چرج کے فرش کی تزئین و آرائش کشمیر کے مشہور’دیور‘ پتھروں سے کی جائے گی۔ حکومت نے جموں وکشمیرمیں مذہبی مقامات، پرانی تاریخی عمارتوں اور یادگاروں کی کھوئی ہوئی شان کو بحال کرنے کیلئے فن تعمیر اور ورثہ اسکیم کے تحفظ اور دیکھ بھال کے تحت ایک ایکشن پلان مرتب کیا ہے؟ ۔بتایاجاتاہے کہ اس قدیم ترین چرچ کے دروازے 1990کی دہائی تک کھلے رہتے تھے،مسیحی برادری کے درجنوں ارکان باقاعدگی سے دعائیں کیاکرتے تھے اور سالانہ کرسمس کے موقع پریہاں ایک بہت بڑا اجتماع ہوتا تھا۔لیکن وقت گزرنے اور موجودہ حالات کے ساتھ پتھر اور اینٹوں کی چنائی کا ڈھانچہ بند ہونے اور عقیدتمندوںکی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ چرچ خاموش ہو گیا۔ڈاکٹر ارنسٹ اور ڈاکٹر آرتھر نیو کی جانب سے خدا کی شان اور کشمیر کے گواہ کے طور پر تعمیر کئے گئے اس چرج کو 12 ستمبر 1896 کو لاہور کے بشپ نے وقف کیا تھا۔حکومت کی طرف سے قدیم ترین چرج میں شروع کئے گئے تزئین و آرائش کے کاموں نے مسیحی برادری کی امیدوں کو تازہ کر دیا ہے کہ قدیم ترین چرچ کو دوبارہ عبادت کرنے والوں کیلئے کھول دیا جائے گا۔










