رسوئی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ اور سبسڈی پر روک لگانے کا معاملہ

سرینگر // اس تیز رفتار دور کی جدید ٹیکنالوجی سے ہر چیز میں تبدیلی رونما ہوئی ۔آج کے دور میں ہر کوئی غریب ہے یا امیر رسوئی گیس پر ہی کھانا پکاتے ہیں کیونکہ اب لوگوں میںجدید سہولیات سے کم ہمتی بھی پیدا ہوئی ہے اور ایندھن وغیر ہ بھی شہر ودیہات میں دستیاب نہیں ہیں اس کے محرکات بہت سارے ہیں ۔جبکہ ماضی میں لوگ کھانے پینے کی چیزوں کو تیار کرنے کیلئے چولھے ( دان ) میں ایندھن استعمال کرتے تھے لیکناب اس کا رواج سرے سے ہی ختم ہوا اوراب شہر ودیہات میں لوگ رسوئی گیس کو استعمال میں لاتے ہیں یہاں تک اب گیس کی بٹھیاں لگا کر وازوان بھی گیس کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے اس طرح اس ضرورت آہستہ آہستہ سے بڑھ جاتی ہے ۔سرکاری سطح پر گیس سلنڈرمیں سبسڈی مقرر کی تھی اور یہ سبسڈی صارفین کے بنک کھاتوں میں دیر سے ہی سہی لیکن جمع ہوتی رہتی تھی لیکن جب سے اس سبسڈی کو بند کیا گیا تب سے لوگ ورطہ حیرت میں پڑ گئے ہیں ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے گیس صارفین نے کشمیر پریس سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ایجنسی سے گیس سلنڈرحاصل کرنے کے بعد ہر کسی صارف کے بنک اکائونٹ میں باضابطہ طورسبسڈی جمع ہوتی رہتی تھی لیکن گذشتہ کئی مہینوں سے مسلسل ان کے بنک کھاتوں میں اس حوالے سے نامعلوم وجوہات کی بنا پرکوئی پیسہ جمع نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے بعد1025روپے فی سلینڈرفراہم کیا جاتا ہے جبکہ سبسڈی کے پیسے فراہم نہیں کئے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار بالخصوص گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے تحقیقات عمل میں لائی جائے اور صارفین کو جانکاری فراہم کی جائے تاکہ وہ سبسڈی کے تئیں سرکار کی نئی پالیسی سے واقف ہوجائیں اور مطالبہ کیا کہ گیس کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور سبسڈی کو بحال کیا جائے تاکہ اس روزمرہ کی ضرورت سے لوگ پریشان ہونے سے بچ جائیں گے ۔