سرینگر / /موسم سرما کے دستک دینے سے قبل ہی محکمہ بجلی کا شیڈول تبدیل کیا جارہا ہے ۔بجلی کی غیر ضروری کٹوتی کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا ہوکرعوام کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے اور لوگ سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ شہر میں بجلی کی سپلائی پر بات کریں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ دن رات میں 24گھنٹوں میں چند گھنٹے بجلی غائب ہے لیکن جب گاؤں دیہات میں بجلی سپلائی کی بات کریں اور بجلی کی عدم دستیابی کی بات کریں تو نوعیت بہت مختلف ہوتی ہے کیونکہ گاؤں میں جب بجلی دستیاب رہتی ہے تو دن رات میں دو سے تین گھنٹے ہی رہتی ہے ۔ حیرانگی کی بات ہے کہ بیشتر دیہات میں جب سے بجلی کی سپلائی شروع کی گئی ہے وہی بوسیدہ کھمبے آج تک موجود ہیں نہ کھمبے تبدیل کئے گئے نہ ترسیلی لائن جدید طرز پر نصب کی گئی ۔نہ کبھی مرمت ہوئی اور نہ ہی کھمبوں پر لگے انسی لیٹر تبدیل کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بجلی تار خار داردرختوں پر لٹکی ہوئی ہیں۔ کئی گاؤں کیلئے وہی پرانا لائن مین پرموشن پاکر انسپکٹر ہے اب تو بڑا عہدہ اور بڑا علاقہ ہے لہٰذا بجلی ترسیلی لائن کی مرمت مطلوب ہو یا کہ جوڑ توڑ مقامی نوجوانوں کیلئے ایک مسئلہ بنتا ہے کیونکہ کئی کئی روز تک جب جلی کٹی تاریں اور بوسیدہ تاریں زمین پر پڑی رہتی ہیں اور بجلی سپلائی معطل یا منقطع رہتی ہے تو نوجوان انسانیت کے تقاضوں کی وجہ سے مرمت کیلئے آگے آتے ہیں اور اس طرح سے پچھلے کئی برسوں کے دوران کئی افراد دوران مرمت ترسیلی لائن کے ازجان ہوئے اور کئی افراد بُری طرح جھلس گئے۔اس سلسلے میں مختلف دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ ان کے علاقے میں گذشتوں کئی ہفتوں سے پہلے کی طرح بجلی کٹوتی شروع کی ئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیشتردیہات میں آج کل بجلی کی کم وولٹیج اور آنکھ مچولی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے اوراکثر اوقات عوامی وفود متعلقہ حکام تک شکایتیں لے کر آتے رہتے ہیں لیکن حکام سننے کیلئے بھی تیار نہیںہیںاور کوئی خاطر خواہ اقدام اٹھانے کی زحمت گورا نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رقم کثیر تاحال مرمت اور تبدیلی بجلی ترسیلی لائن و بجلی کھمبوں وغیرہ پر صرف کیا جاچکا ہے جو کہ صرف اور صرف کاغذی ہے اس طرح سے زمینی سطح پر محکمہ پی ڈی ڈی کی کارکردگی ، مرمت اور تبدیلی ترسیلی لائن وغیرہ قابل توجہ و قابل تحقیقات ہے، کیونکہ یہ وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ محکمہ بجلی کے افسران دفتروں سے باہر کبھی آئے ہی نہیں۔عوام بجلی کی عدم دستیابی، کم وولٹیج اور آنکھ مچولی سے تنگ آچکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماہانہ بجلی فیس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ دن رات میں پانچ دس گھنٹے کی بجلی کی فراہمی پر بھی گاؤں کے سادہ لوح لوگ خوش رہتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہفتہ میں دو تین دن اور دن رات میں دو تین گھنٹوں کے وقفے وقفے سے کم وولٹیج والی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی بحرانی کیفیت سے عوامی حلقوں میں رنج و غم اور تشویش کی لہر دوڑ رہی ہیاور کہا کہ دور دراز گاؤں میں عوام کی کوئی سنتا بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائے وے پر مقیم لوگ اگر چہ سڑکوں پر آکر روڑ بلاک کرتے ہیں اور حکام کا توجہ حاصل کرتے ہیں لیکن دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ہڑتال اور احتجاج سے سرکار اور حکام پر جوں بھی رینگتی نہیں ہے اور نہ ہی ان پسماندہ علاقوں کی طرف کوئی توجہ مبذول نہیں کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میںانہوں نے متعلقہ حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بجلی بحران کے خاتمہ کیلئے مرتب شدہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کے نام تازہ احکامات جاری کریں اور بوسیدہ بجلی کھمبوں وترسیلی لائنوں کو جدید طرز پر نئے سرے سے نصب کیا جائے تاکہ شہر ودیہات کے لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوجائے گااورلوگ سردی کے کٹھن ایام میں مشکلات سے نجات حاصل کریں گے ۔
آسام: سیلاب سے 13 اضلاع میں 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر، اموات کی تعداد 98 تک پہنچ گئی
’ہم بدعنوان سسٹم کا مقابلہ محبت سے کریں گے، نفرت اور تشدد سے نہیں‘، راہل گاندھی کا طلبا و نوجوانوں سے خطاب
’اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو، یہ کمل کے پھول کمہلانے لگے ہیں‘، اتراکھنڈ کی عوام سے کھڑگے کی اپیل
سپریم کورٹ کے معروف وکیل ایڈووکیٹ محمد نور اللہ راشٹریہ جنتا دل اقلیتی سیل، دہلی کے ریاستی صدر نامزد
چین سے ہندوستان کی درآمدات میں گزشتہ 5 سال کے دوران 39 فیصد کا اضافہ، حکومت نے راجیہ سبھا میں فراہم کی معلومات
اڑتے مسافر طیارے میں ایمرجنسی گیٹ کھولنے کی کوشش، کیرالہ پولیس نے مسافر کے خلاف درج کیا کیس
افغانستان نے ’عالمی کپ 2027‘ کے لیے کیا کوالیفائی، آئرلینڈ کے لیے راہ ہوئی دشوار
ہماچل پردیش: چمبا ضلع میں پرائیویٹ بس بے قابو ہوکر حادثے کا شکار، 7 افراد کی موت، 11 زخمی
غزہ میں 300 دنوں میں 300 بچے ہلاک: یونیسیف
ایران کیساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک پائیگا: ٹرمپ










