قبل ازوقت برف باری شعبہ باغبانی کی موت:فیاض ملک
سرینگر //محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کہ22سے24اکتوبرتک موسم خراب رہنے کے بیچ 23اکتوبرکوکئی علاقوں میں درمیانہ تابھاری برف باری کیساتھ تیزبارشیں بھی ہونگی،کشمیرکیاطراف واکناف میںجمعہ کے روز میوہ باغات میں خاصی گہماگہمی دیکھنے کوملی کیونکہ مالکان باغات اورمیوہ بیوپاری درختوں سے سیب اتارنے میں د ن بھرمصروف عمل رہے ۔خیال رہے محکمہ موسمیات کی جانب سے مالکان باغات کویہ مشورہ دیاگیا ہے کہ وہ ممکنہ برف باری کے پیش نظر سیب کی پیدوارکوجمعہ کی شام تک سمیٹ لیں اورمیوہ داردرختوںکی ضروری شاخ تراشی بھی کریں ۔جے کے این ایس کے مطابق جمعہ کے روز دھوپ چھائوںکے کھیل کے چلتے کشمیروادی کے اطراف واکناف میں مالکان باغات اورمیوہ بیوپاری درختوں سے سیب اتارکرجمع کرنے میں مصروف رہے ۔چھترال کرالہ گنڈکے ایک باغ مالک عبدالقیوم خان نے فون پربات جلدی جلدی کرتے ہوئے کہاکہ وہ بہت مصروف ہیں ،کیونکہ آج رات سے ہی موسم خراب رہ سکتاہے ۔انہوںنے کہاکہ درختوں سے سیب اتارنے کیلئے اضافی مزدورکام پررکھے گئے ہیں۔ڈانگرپورہ سوپور،اچھہ بل سوپور،شوپیان اوردیگر کئی علاقوں میں بھی مالکان باغات اورمیوہ بیورپاری جمعہ کوصبح سے ہی باغات میں کام پرلگے رہے ۔انہوںنے مزدورکولیکر سیب اتارنے کے کام کودن میں ہی مکمل کرنے کی کوشش کی ۔جس چیز نے مالکان باغات اورمیوہ بیوپاریوںمیں گھبراہٹپیداکی ہے، وہ برف کی پیش گوئیہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر وادی میں برف باری ہوئی تو سیب کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ پہلی روشنی میں گھر چھوڑ کر ، وہ آدھی رات تک کٹائی کو تیز کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔محکمہ باغبانی نے باغ مالکان کو فصلوں یعنی سیب اٹارنے میں تیزی لانے کا مشورہ بھی جاری کیا ہے۔کئی مالکان باغات نے کہاکہ ہم نے کچھ دنوں کیلئے سیب اُتارنے کے کام میں تاخیر کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن اب ہم ہر قسم کی فصل کاٹ رہے ہیں کیونکہ بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی ہے جو ہماری پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔مالکان باگات نے سیب اتارنے اورفصلوںکوجمع کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے ایک اضافی افرادی قوت کی خدمات حاصل کی ہیں جبکہ کئی مقامات پردرختوںکی شاخ تراشی بھی کی گئی۔خیال رہے2018 اور 2019میں وادی میں نومبر کے پہلے ہفتے میں برف باری ہوئی۔ اس نے باغات کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔باغ کے ماہرین نے بتایا کہ سیب کی چند اقسام بشمول مہاراجہ اور دیگر کئی جگہوں پر ابھی پکنا باقی ہے۔ ان اقسام کو پکنے میں تقریبا ~ ڈیڑھ ہفتے لگیں گے اور تب ہی اس کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ بارہمولہ کے باغبان غلام محی الدین ڈار نے کہا کہ ہلکی برف باری یا یہاں تک کہ ہوا باغبانی کی صنعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔صدر ، شمالی کشمیر فروٹ کاشتکار ایسوسی ایشن ، فیاض احمد ملک نے کہا کہ وادی میں30 فیصد سے زیادہ پیداوار ابھی کاٹی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار فصل کی کٹائی میں مصروف ہیں۔ اس پورے عمل کو مکمل کرنے میں تقریبا ً ایک ہفتہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا۔ پتے سبز ہیں اور انہیں پتے گرانے میں وقت لگے گا۔ ابتدائی برف باری کا مطلب وادی کے باغبانی کے شعبے کی موت ہے۔دریں اثنا ، ہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ایڈوائزری نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ باغات میں پانی جمع نہ ہو۔










