پرائیویٹ ا سکولوںکے منتظمین عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب

سرکاری اداروں کے پاس شکنجہ کسنے کی بھر پور صلاحیت موجود : مظفر حسین عطار

سرینگر//فی فکزیشن کمیٹی نے پرائیویٹ ا سکولوں کی جانب سے سرکاری اور عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیوں کاپردہ فاش کرتے ہوئے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں اسکول منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نت نئے ناموں سے فیس وصولنے اور بچوں کی تعلیم میں فیس کے نام پر رخنہ ڈالنے کی کوششوں سے گریز کریں ۔ جے کے این ایس کے مطابق فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی (FFRC)کے چئیرمین جسٹس مظفر حسین عطار نے اس حوالے سے جمعرات کو ایک حکمنامہ زیر نمبر 67جاری کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمیٹی کو ختلف ذرائع سے شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہاگیا ہے کہ کچھ پرائیویٹ سکول طلبہ اور والدین سے ’’رفنڈیبل فیس‘‘کے نام سے رقم وصول کررہے ہیںجبکہ کچھ سکول طلبہ سے سال یا چھ ماہ کی پیشگی فیس مانگ رہے ہیں اور کچھ سکول فیس کی وصولی کے لئے بچو ں کی تعلیم میں رخنہ ڈالتے ہیں یارخنہ ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جسٹس مظفر حسین عطار نے کہا ہے کہ’ رفنڈیبل فیس‘ کی کوئی قانونی جوازیت نہیں ہے لہٰذا اس نام پر نہ کوئی زائد فیس وصول کی جاسکتی ہے اور نہ مانگی جاسکتی ہے ۔حکمنامے میں جموںوکشمیر سکول ایجوکیشن ایکٹ 2002کی د فعہ 21(E) 1کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ پرائیویٹ سکول صرف ٹیوشن فیس ، انیول فیس ، ٹرانسپورٹ فیس اور والنٹیر سپیشل فیس وصول کرسکتے ہیں جس کے لئے فی فکزیشن کمیٹی سے منظور ی لینا لازمی ہے ۔ اسکے علاوہ سکول منتظمین ایڈمیشن فیس یا کسی اور نام سے کوئی فیس وصول نہیں کرسکتے ہیں۔ حکمنامے میں ـرفنڈیبل فیس کے نام پر رقومات وصولنے کی ممانت کی گئی ہے ۔ انہو ںنے حکمنامے میں پرائیویرٹ سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۶مہینے یا سال بھر کی پیشگی فیس وصولنا بند کریں۔انہو ںنے واضح کیا ہے کہ ٹیوشن فیس ماہانہ طور پر ادا کی جاسکتی ہے ۔ سکول منیجمنٹ کو طلبہ یا والدین سے6ماہ یا سال بھر کی پیشگی فیس مانگنے یا وصولنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ ایسا مطالبہ ضوابط کے خلاف ہے اور اسکی قطعاً اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ جسٹس مظفر حسین عطار نے سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بقایا فیس وصولنے کے لئے طلبہ کو تعلیمی سہولیات سے محروم کرنے سے گریز کریں اور وصولی کے لئے تعلیم میں رخنہ ڈالنے کا حربہ آزمانے کے بجائے قانونی حدود کا احترام کرناچاہئے ۔ انہو ںنے کہا ہے کہ سکول منتظمین کی جانب سے بقایا فیس وصولنے کے لئے بچوں کی تعلیم پر اثر انداز کرنا نہ صرف سپریم کو رٹ فیصلوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ غیر اخلاقی فعل بھی ہے۔پرائیویٹ سکولوں کو بچوں کی تعلیم کے لئے قائم کیا جاتاہے فیس کی عدم ادائیگی کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنایا جاسکتاہے۔ انہوںنے سپریم کورٹ کی سول اپیل نمبر 1924آف 2021کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیس کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو آن لائن کلا س یا فزیکل کلاسز سے محروم نہیں کیا جاسکتاہے۔ انہو ںنے کہا ہے کہ سکولی تعلیم ایک اہم خدمت ہے اور اس میں خیرات کا عنصر موجود ہے تاکہ بچوں کو صرف پڑھا لکھاہی نہیں بلکہ اچھا انسان بنایا جاسکے۔ انہو ںنے کہا ہے کہ بدقسمتی سے کچھ سکول سپریم کورٹ کے ہدایت کو نظر انداز کرتے ہیں جس میںواضح طور پر کہاگیا ہے کہ تعلیم تجارت نہیں بلکہ ایک خیراتی کام ہے ۔ لیکن کچھ ادارے اس نیک کام کو اپنی دنیا وی خواہشاات کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔انہو ںنے والدین سے کہا ہے کہ انہیں بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے سکولوں کوفی فکزیشن کمیٹی کی مقرر کردہ فیس ادا کرنی چاہئے ۔انہو ں نے اعتراف کیا ہے کہ کووڈھ 19کے لاک ڈائون کی وجہ سے عوام کا ایک بڑا طبقہ بری طرح سے متاثر ہواہے جن کواب گذارہ کرنا مشکل ہوگیا ہے اور یہ لو گ سکول فیس کی بھرپائی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہو ں نے سرکاری ملازمین اور بڑے تاجروں سے کہاہے کہ ان کو اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی فکزیشن کمیٹی کی مقرر کردہ فیس اداکرنی چاہئے ۔ انہو ں نے سکول منتظمین کی کثیر تعداد کی سراہنا کی ہے جنہو ںنے مستحق طلبہ اور والدین کی فیس میں رعایت دی ہے یا انہیں آسان قسطوں میں فیس اداکرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہو ں نے موصولہ شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ’’ رفنڈیبل فیس‘‘ کے نام پر کم یا زیادہ فیس مانگنے یا وصول کرنے سے اجتناب کریں ، ایک ماہ سے زیادہ ٹیوشن فیس وصولنے کی کوشش نہ کریں اور فیس کی ادائیگی کے لئے کسی بھی صورت میں بچوں کی تعلیم میں کوئی رخنہ نہ ڈالیںورنہ قانون اورسرکاری اداروں کے پاس ٹیڑی دم سیدھی کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔