وادی کشمیر میں لڑکیاں لڑکوں کے شانہ بہ شانہ ہر شعبے میں آگے
سرینگر // پوری دنیا میں انٹرنیشنل گرل چائلڈ ڈے منایا گیا ۔ اس سال اس دن کا موضوع ڈیجیٹل جنریشن مقرر تھا اور دنیا کے مختلف مقامات پر ہوئی تقاریب میں مقررین نے اس موضوع کے حوالے سے بچیوں کو اُنکا حق دلانے اور اُن کے ساتھ لڑکوں کے برابر کا سلوک کرنے پر زور دیا ۔ یوں تو بہت پہلے سے ہی دنیا کی ذی ہوش شخصیتیں بچیوں کو اُن کے حقوق دلانے کی جدوجہد کرتے آئے ہیں لیکن سال 1995میں چین کے شہر بیجنگ میں خواتین سے متعلق ہوئی عالمی کانفرنس میں ہر سال 11اکتوبر کو عالمی گرل چائلڈ ڈے منانے کا فیصلہ لیا گیا اور تب سے ہر سال اس روز دنیا بھر میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جس دوران بچیوں کو اُن کے برابر کے حقوق دلانے اور اُنہیں زندگی کے ہر شعبے میں لڑکوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنے کی سماج کو ترغیب دی جارہی ہے ۔ ان سبھی کوششوں کا بنیاد مقصد بچیوں کو یکساں حقوق دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں دنیا کی ترقی میں شراکت دار بنانا ہے تاکہ وہ بھی قوموں کی تعمیر میں اپنا رول اداکرسکیں۔جہاں ایک طرف برسر اقتدار سرکاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف سیکمیں روبہ عمل لاکر بچیوں کو بااختیار بنانے اور اُنہیں اُن کے حقوق دلانے کیلئے اقدامات کریں وہیں سب سے بڑی ذمہ داری سماج کی ہے جسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی صورت میں بچیوں کے ساتھ تفرق نہ بتا جائے اور انہیں لڑکوں کے برابر سمجھ کر سماج میں اپنا رول نبھانے کا پورا موقع دیا جائے کیوں کہ آج کی بچیاں لڑکوں سے کافی آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ایسا انہوں نے ثابت کردیا ہے ۔ پُرانے زمانے میں لڑکیوں کے پیدا ہونے پر والدین مایوس ہوا کرتے تھے اور اس طرح لڑکیوں کے ساتھ تفرق برتا جاتا تھا جس کے نتیجے میں لڑکیاں گھروں سے باہر نہیں نکلتیں تھیں ۔ اور وہ تعلیم سے محروم رہ جاتی تھیں مگر موجودہ دور میں ایسا نہیں ہے اور آج لڑکیاں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سماجی اور ملکی تعمیر میں اپنا رول نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل کو بھی تابناک بنانے کی اہل ہیں ۔ ایسا اس لئے ممکن ہوپایا ہے کیوں کہ والدین اور سماج کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور لوگ یہ بات سمجھ چکھے ہیں کہ لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر حقوق ہیں اور وہ کسی بھی طرح سے کم نہیں ۔ اس بدلتے سوچ کی وجہ سے سماج میں ایک انقلاب آنے لگا ہے جس سے لڑکیاں مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں کام کرنے سماج اور ملکی خدمت میں پیش پیش نظر آرہی ہیں ۔ ماحی میں ایسی بھی سوچ تھی کہ لڑکیاں جدید دور کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے اور اُس سے زندگی چلانے کے کام میں لڑکوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں مگر لڑکیوں نے اپنی ذہانت سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کا لڑکوں سے زیادہ بہتر ڈھنگ سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں لڑکیاں سب سے آگے ہیں اور اس کا ثبوت زندگی کے ہر شعبے کے کام کاج میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے لھٰذا ایسی غلط سوچ رکھنے والے والدین اور ایسے سماجوں کو بھی اپنا سوچ بدل کر لڑکیوں کو آگے بڑھنا کا موقع فراہم کرنا چاہئے ۔ بھارت سرکار لڑکیوں کی زندگی سدھار اور انہیں تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے کئی سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن کے تحت لڑکیوں کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ اُنہیں دیگر تعلیمی اخراجات کیلئے وظیفہ دیا جارہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں لڑکیوں کو بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار نبھانے کا موقع فراہم کرنے کیلئے سرکار مختلف اقدامات کررہی ہے ۔ ہمارے بھارت میں اس وقت سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد اطمینان بخش ہے اور جو لڑکیاں کسی وجہ سے ابھی تک تعلیم سے محروم رہ رہیہیں اُنہیں سکول تک رسائی فراہم کرنے کیلئے سرکار کمربستہ ہے اور اس ضمن میں مختلف سکمیںشروع کی گئی ہیں ۔ جہاں سرکار اپنے طور پر لڑکیوں کی سوفیصد تعلیم یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے وہیں والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل کے معاملے میں کہیں بھی لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق نہ کریں اور اپنی بچیوں کو بھی لڑکوںکی ہی طرح تعلیم کے نور سے آراستہ کریں اور انہیں بھی بلاکسی ججھک کے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کام کرنے کا موقع فراہم کریں ۔ علاوہ ازیں والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکیوں کو برابر کے حقوق دیں اور کبھی بھی لڑکیوں کو لڑکوں سے کم نہ سمجھیں ۔ یہ بھی اُن کی زمہ داری ہے کہ وہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور اُن کے مستقبل کی بہتری کیلئے کام کریں اور کبھی بھی اُنہیں نظر انداز نہ کریں یہی ایک بات ہے جس سے ہم لڑکیوں کے ساتھ انصاف کرکے انہیں اُن کے حقوق دلاسکتے ہیں۔










