کھانڈاورتیل خاکی غائب،غذائی اجناس کی قیمتوں پرکوئی کنٹرول نہیں
سری نگر //مشکل ترین اوقات میں سرکار اورعوام کے درمیان رابطے کااہم ذریعے رہنے والے محکمہ فوڈسپلائزوعوامی تقسیم کاری کشمیر کی افادیت اورعوامی اعتباریت ختم ہوتی جارہی ہے ،کیونکہ قومی خوراک تحفظ قانون یعنیNFSAکے تحت صارفین کوفراہم کئے جانے والے چاول کی مقدارکم کردی گئی ہے،کھانڈکوراشن ڈیپوئوں سے غائب کردیاگیاہے اورتیل خاکی کی تقسیم کاری پربھی عملاًروک لگادی گئی ہے ۔بازاروں میں غذائی اجناس کی قیمتوںکواعتدال پررکھنے میں بھی متعلقہ محکمہ ناکام نظرآرہاہے ،کیونکہ گاہے بیگاہے ہونے والی مارکیٹ چیکنگ بھی نہیںہورہی ہے ۔جے کے این ایس کوسری نگرشہر اوروادی کے دوسرے کئی علاقوں سے لوگوںنے بتایاکہ اُنھیں سرکاری راشن ڈیپوئوں سے مقررہ مقدارمیں چاول فراہم نہیں کیا جاتاہے ۔انہوںنے بتایاکہ قومی خوراک سیکورٹی ایکٹ کے تحت راشن کارڈ ہولڈروںکوسرکاری راشن ڈیپوئوں سے فی نفر5کلوگرام چاول فراہم کیا جاتاتھا ،لیکن اب اس میں بھی کمی کی گئی ہے اورجب ہم اسبارے میں متعلقہ فیرپرائس شاپ ڈیلرسے پوچھتے ہیں تووہ کہتے ہیں کہ اُنھیں وہاں سے ہی کم مقدارمیں چاول سپلائی کیاجاتاہے ،اوروہ اُسی حساب سے صارفین میں چاول تقسیم کرتے ہیں ۔اسبارے میں کچھ فیرپرائس شاپ ڈیلروںنے بتایاکہ وہ اُسی حساب یامقدار سے صارفین کوچاول فراہم کرتے ہیں ،جس حساب یامقدار سے اُنھیں چاول فراہم کیاجاتاہے ۔انہوںنے بتایاکہ جب ہم صارفین کومقررہ مقدار سے کم چاول دیتے ہیں توہمیں عوامی ناراضگی کاسامنا کرناپڑتا ہے ۔کچھ فیرپرائس شاپ ڈیلروںنے بتایاکہ انہوںنے یہ معاملہ متعلقہ سپلائز افسروںکی نوٹس میں بھی لایالیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ فیرپرائس شاپ ڈیلروںنے شکایت کی کہ سری نگرسمیت کئی اضلاع میں اُنھیںا لاٹمنٹ کے حساب سے چاول فراہم نہیں کیا جاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ ایسا پہلی بار ہورہاہے کہ ہمیں الاٹمنٹ سے کم چاول فراہم کیاجاتاہے جبکہ اسے پہلے اگرایسی کوئی شکایت ہوتی تھی تواس کافوری ازالہ کیا جاتاتھا۔اس دوران متعددصارفین نے یہ شکایت بھی کی کہ محکمہ فوڈ سپلائز وعوامی تقسیم کاری کے آن لائن پورٹل پراُن کی تفصیلات کوغلط اندراج کیاگیاہے ،جس وجہ سے اُنکی حق تلفی ہورہی ہے ۔کئی صارفین نے بتایاکہ وہ بی پی ایل زمرے میں آتے ہیں ،اورانھیں اسی زمرے کے تحت راشن کارڈبھی دئیے گئے ہیں ،لیکن پورٹل پراُنھیں اے پی ایل زمرے میں دکھایاگیاہے ۔انہوںنے بتایاکہ کئی اے پی ایل زمرے کے صارفین کومحکمہ کی آن لائن پورٹل پربی پی ایل زمرے میں دکھایا گیاہے ،اور ایسے صارفین ہمارا حق کھاتے ہیں ۔صارفین نے شکایت کی کہ محکمہ فوڈسپلائز وعوامی تقسیم کاری کے پورٹل کوگالباًاپ ڈیٹ نہیں کیا جاتاہے اورنہ غلط اندراجات کی تصحیح کی جاتی ہے ۔اس دوران غریب صارفین نے یہ شکایت بھی کی کہ اب سرکاری راشن گھاٹوں سے کھانڈکی تقسیم کاری کیساتھ ساتھ تیل خاکی کی فراہمی بھی عملاًبندکردی گئی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ کشمیرمیں موسم سرما طویل ہوتاہے اوراس دوران بجلی کٹوتی شیڈول بھی لاگوکیاجاتاہے اورایسے میں روشنی اورکھاناپکانے کیلئے تیل خاکی ایک متبادل ذریعہ تھا لیکن اس اہم ترین اشیاء کی فراہمی بھی بندکردی گئی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محکمہ فوڈ سپلائز وعوامی تقسیم کاری ،ایسے سرکاری محکموںمیں شامل ہے ،جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کوراحت ومددفراہم کرنے میں پیش پیش رہتا تھا ،لیکن اب اس اہم ترین سرکاری محکمے جوعوام اورسرکار وانتظامیہ کے درمیان رابطے کاایک اہم ذریعہ یاپُل تھا،اس محکمے کی افادیت اورعوامی اعتباریت بھی بتدریج ختم ہورہی ہے ۔عوامی حلقوں بشمول مستند صارفین کامانناہے کہ محکمہ فوڈ سپلائز وعوامی تقسیم کاری کے موجودسسٹم نے اس محکمے کوکافی نقصان پہنچایاہے ،جس پرروک لگانے کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں ۔بازاروں میں غذائی اجناس کی قیمتوںکواعتدال پررکھنے میں بھی متعلقہ محکمہ ناکام نظرآرہاہے ،کیونکہ گاہے بیگاہے ہونے والی مارکیٹ چیکنگ بھی نہیںہورہی ہے ۔جانکار لوگوںنے بتایاکہ محکمہ فوڈسپلائز وعوامی تقسیم کاری کی اپنی ایک انفورسمنٹ ونگ ہے ،جو سبزیوں ،میوہ جات ،مرغ ،گوشت اوردیگر غذائی اجناس کی قیمتوں اورکوالٹی پرنظررکھنے کی پابند ہے لیکن اب کئی مہینوں سے اس انفورسمنٹ ونگ کی جانب سے بازاروںمیں کوئی کارروائی دیکھنے کونہیں ملتی ہے ۔عوامی حلقوں کاکہناہے کہ اگرمحکمہ فوڈ سپلائز وعوامی تقسیم کاری کی جانب سے مارکیٹ چیکنگ کوایک باضابط عمل بنایاجائے تو بازاروںمیں گراں بازاری ،ناجائز منافع خوری کاباآسانی قلع قمع ممکن ہے ۔تاہم لوگوںنے سوالیہ اندازمیں کہاکہ جومحکمہ گوشت فی کلوکی قیمت کواعتدال پررکھنے میں ناکام رہے ،وہ دیگرغذائی اجناس کی ناجائز منافع خوری اورمہنگائی پرکیاروک لگاپائے گا۔عوامی حلقوںنے لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ کے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ سرکاری راشن کی تقسیم کاری میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ مہنگائی پرقابوپانے کیلئے فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ۔










