وزارتِ قبائلی اَمور نے جموںوکشمیر میں مختلف منصوبوں کیلئے اِتفاق کیا

وزارتِ قبائلی اَمور نے جموںوکشمیر میں مختلف منصوبوں کیلئے اِتفاق کیا

نئی دہلی//مرکزی وزیر قبائلی امور ارجن منڈا نے جموں و کشمیر کے قبائلی امور کے محکمہ کی طرف سے پیش کی گئی منصوبہ تجاویز اور مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جس کا مقصد جموںوکشمیر میں قبائلی برادریوں کے لئے سماجی و معاشی اور فلاحی منصوبہ بندی ہے ۔مختلف پروجیکٹوں کے لئے لئے گئے مختلف تجاویز اور فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی مداخلت پر کئی اہم پروگراموں کی جموںوکشمیر تک بڑھایا جارہا ہے جن کے لئے قبائلی امور محکمہ نے تجاویز پیش کیں۔میٹنگ میں سیکرٹری وزارتِ قبائلی امور انیل کمار جہا ،جے ٹی سیکرٹری نوجوت کپور، سیکرٹری قبائلی امور محکمہ جموںوکشمیر ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری ، ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار اور دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔وزیر قبائلی امو رنے جموںوکشمیر حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں بشمول تعلیم ، ضروری خدمات ، قبائلی صحت منصوبہ ، معاش سکیمیں ، کاشت کاری ، بنیاد ی ڈھانچہ ، ٹرانزٹ رہائش ، آئی ٹی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں مع دیگر شعبوں کے تحت پیش کردہ تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔اُنہوں نے وزارت میں متعلقہ صوبوں سے کہا کہ وہ منظوری کے لئے تجاویز پر تیز سے عمل در آمد کریں تاکہ جموں وکشمیر میں قائلی آبادی کے لئے ضروری سہولیات اور خدمات کو بڑھایا جائے ۔ فنڈنگ کا معاملہ بھی آرٹیکل 275 (1) کے تحت جلد حل کرنے کے لئے زیر بحث آیا۔مرکزی سیکرٹری قبائلی اَمور انیل کمار جہا نے مختلف سکیموں کے تحت منصوبوں کی منظور اور مائیگرنٹ قبائلی آبادی کی منفرد ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اُنہوں نے نقل مکانی کرنے والی آبادی کے لئے کئے گئے جامع سروے کو سراہا جو طویل مدتی منصوبہ بندی میں مدد گار ثابت ہوگا۔سیکرٹری قبائلی اَمور محکمہ جموںوکشمیر ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے انٹگریٹیڈ وِلیج ڈیولپمنٹ سکیم پر عمل در آمد اور 302دیہات کی مرکزی فہرست کے علاوہ اِضافی 65 دیہاتوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی اور سکیم کے تحت پہاڑی چراگاہوں کی بستیوں کا نوٹیفکشین ان مقامات پر رہائش پذیر مائیگرنٹ آبادی کو دیکھتے ہوئے مختلف سہولیات کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے وزارت کو مختلف اضلاع میں انٹگریٹیڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ اتھارٹیوںکے قیام کے لئے شروع کئے گئے منصوبہ بندی کے عمل اور وزارت کی جانب سے منظوری کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔وزارت کو پیش کئے گئے منصوبوں میں 07 مزید ایکلویا ماڈل رہائشی سکولوں کا قیام ، 02 ماڈل ڈے بورڈنگ سکول ، کھیلوں کے 02 مراکز ، قبائلی سمارٹ سکولوں کے لئے گرانٹ ، مختلف اضلاع میں 80 ہوسٹلوں کا قیام اور قبائلی بھون کے لئے گرانٹ شامل ہیں۔ وزارت کے سامنے غور اور منظوری کے لئے رکھے گئے دیگر اہم منصوبوں میں قبائلی نوجوانوں اور خواتین کی خاطر معاش کے منصوبے ، قبائلی تحقیقاتی ادارے میںاَسامیوں کی معرض وجود میں لانے کی منظوری اور ٹریفیڈ کے تحت مختلف سکیموں میں توسیع شامل ہیں۔اجلاس میں قبائلی آبادی کے لیے خاص آمدنی پیدا کرنے کے ذرائع اور جموں و کشمیر میں نقل مکانی کرنے والے قبائلی آبادی کے لیے وقف کوششوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ مزیدہوہوسٹل اور رہائشی سکولوں کے قیام کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ یہ فیصلہ لیا گیاکہ قبائلی امور محکمے جموںوکشمیر کی جانب سے جمع کردہ جامع منصوبہ بندی کے پیش نظر مرکزی وزارت متعلقہ محکموں کے ذریعے معاونت کے لئے مختلف وزارتوں کے ساتھ بین شعبہ جاتی منصوبے شروع کرے گی۔