نوجوانوں کا منشیات کی لت میں مبتلا ہونا تشویشناک

سرینگر //منشیات کا رجحان آئے روز بڑھتا جارہا ہے اور تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان نشہ آور ادویات کے استعمال کی لت میں بڑی تیزی سے مبتلا ہورہے ہیں ۔اس سلسلے میں ضلع بارہمولہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سماج کے حساس لوگوں نے بتایاکہ قصبہ بارہمولہ اور دیگر کئی علاقوں میں نوجوان مالی خستہ حالی ،بے کاری اور بے روزگاری کے دبائو کی وجہ سے منشیات کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذہنی کوفت کو دور کرنے کیلئے نوجوان نشہ آور ادویات کا خوب استعمال کرکے اپنی زندگیوں کے ساتھ صریحاًکھلواڑ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولیس و دیگر ایجنسیاں منشیات کے انسداد کیلئے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کی گرفتاری عمل میں لانے میں پولیس آئے روز کامیابی حاصل کررہا ہے ۔لیکن ان کی کاروائیوں کے دوررس نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں کیونکہ ملوثین کو ایسی سزا نہیں دی جارہی ہے جس سے دوسرے نوجوان خوفزدہ ہوکر منشیات کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ملوثین کو معمولی سزائیں دی جارہی ہیں تو اس کے نتائج منفی سامنے آتے ہیں اور نوجوان ان سزائوں کو آسان سمجھتے ہوئے بے لگام ہوکرمنشیات کی لت میں مبتلا ہورہے ہیں ۔جس کے نتیجے میں والدین فکروتشویش میں مبتلا ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے دھندوں میں ملوث افراد نے اپنے گروہ یا ٹولیاں بنائی ہیں اور ٹھکانے بھی قائم کئے ہیں ۔یہاں تک نوجوانوں کو نشہ آور ادویات کے عادی بنانے کیلئے باضابطہ طور ایک رجحان کھڑا کررہے ہیں اور سماج کا کوئی بھی شخص یہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو بے بس تصور کرتا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ اور پولیس افسران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے دھندوںمیں ملوث افراد کا قافیہ حیات تنگ کرنے کیلئے جنگی پیمانے پر اقدامات اٹھائے جائیں اور نشہ آور ادویات فروخت کرنے والے دکانات کو سربمہر کیا جائے تاکہ اس سماجی بدعت پر قابو پایا جاسکے ۔ (کے پی ایس)