Nayeem Ul Haq

2ہزار سے زائدکنٹریکٹ ملازمین کو خدمات سے فارغ

این ایچ ایم ملازمین کا پریس کالونی سری نگر میں احتجاج

نعیم الحق
سرینگر // نیشنل ہیلتھ مشن کے سینکڑوں کنٹریکٹ ملازمین نے سنیچر سری نگر کی پریس کالونی میں ملازمتوں سے اچانک برطرفی کے خلاف اور اپنی خدمات کو جاری رکھنے کے مطالبے کولیکر احتجاج کیا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق حکومت نے ایسے2ہزار سے زائدکنٹریکٹ ملازمین کو خدمات سے فارغ کر دیا ہے۔ دوران احتجاج این ایچ ایم کے ایک ملازم شاہد بشیر نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ ’استعمال اور پھینکوں‘ کی پالیسی استعمال کر رہی ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ سال کویڈ 19کی پہلی لہر کے عروج پر وادی بھر کے اسپتالوں میں این ایچ ایمکے سینکڑوں کنٹریکٹ ملازمین تب طبی خدمات میں شامل ہوئے تھے جب کوئی بھی اپنے گھروں سے باہر نہیں آنا چاہتا تھا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ کوویڈ مریضوں کے ساتھ کوئی تیمار دار نہیں ہوتا تھا، ہم نے اپنے ننگے ہاتھوں سے لاشیں بھی اٹھائیں۔ احتجاجیوں نے کہاکہ حکومت نے کیا کیا؟بجائے اسکے ہماری ملازمتوں کوباقاعدہ بنایاجاتاہے، انہوں نے ہمیں استعمال کیا اوراب ہمیں پھینک دیا۔انہوں نے کہاکہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ہم نے بہترین طریقے سے خدمات انجام دیں تو ہم ملازمتیں باقاعدہ ہوجائیں گے۔ لیکن ریگولرائزیشن کے بجائے ، انہوں نے بدترین کووڈ دور میں ہمیں استعمال کرنے کے بعد باہر پھینک دیا۔دریں اثنا ،معلوم ہواکہ مختلف طبی اداروں کے پرنسپلوں اور ایچ او ڈیز نے ہسپتالوں میں این ایچ ایم ملازمین کو جاری رکھنے کیلئے اعلیٰ حکام کو اپنی سفارش پیش کی ہے ۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے ریگولرائزیشن کا مطالبہ کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ انہیں برطرف کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔