سرینگر //جموں کشمیر میں ایک دہائی قبل سرکاری اسپتالوں،دفاتر،پانی کے ٹینکر،ایس آر اور سکولی عمارتیں تعمیر کرنے کی شروعات کی گئی ہے لیکن یہ عمارتیں مکمل ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں۔سرکاری دعوئوں کے بیچ تعمیروترقی کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اورمتعلقہ محکمہ جات عمارتوں کی تعمیرات کیلئے جے کے ہاوسنگ بورڈ کو ٹھیکہ پر کام دیتے ہیں لیکن جے کے ہاوس بورڈ کی کارکردگی پر اب تک سوالیہ نشان لگ چکا ہے کیونکہ وادی کے طول اوعرض میں جن سرکاری عمارتوں کو مذکورہ تعمیراتی ایجنسی نے ٹھیکہ پر لیا ہے ۔ان کے تعمیراتی کام سے نہ ہی متعلقہ محکمہ مطمئن ہے اور نہ ہی لوگ اس سے خوش ہیں بلکہ لوگوں کا الزام ہے کہ مذکورہ بورڈ کے ٹھیکہ دار ایک تو سست رفتاری سے کام کرتے ہیں اور دوسرا یہ ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران ناقص اور غیر معیاری میٹرئیل کا استعمال عمل میںلایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں خزانہ عامرہ کا لوٹ کھسوٹ ہورہا ہے اورمفاد عامہ کے خاطر منظور شدہ پروجیکٹوں کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں کے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایاکہ وادی کے ہر چار سو جے کے ہاوس بورڈ نے اسپتالوں ،اسکولوں ،کالجوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو متعلقہ محکمہ جات سے ٹھیکہ لیاہے اور منظور شدہ پروجیکٹوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے فنڈس بھی واگذار کئے جاچکے ہیں لیکن ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے تعمیراتی کام چل رہا ہے تب بھی کام ادھورا ہی ہے جس سے لوگ بھی اور محکمہ جات کے افسران بھی ورطہ حیرت میں پڑگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ وادی کے متعددمقامات پر ایک اسکیم کے نیوٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹروں یا سب ہیلتھ سنٹروں کی تجدید ومرمت اور تعمیرات کے لئے ہاوس بورڈ نے ٹھیکے لئے ہیں ۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ ہی مرمت عمل میں لائی گئی ہے اور تعمیراتی کام بھی نامکمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ زیر تعمیر پرائمری ہیلتھ سنٹروں اور سب ہیلتھ سنٹروں پر دہائیوں سے کام جاری ہے لیکن ابھی تک ان اسپتالوں کو محکمہ صحت کے متعلقہ بلاک کو سپرد نہیں کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان اسپتالوں کی تعمیرا ت کے دوران غیر معیاری میٹرئیل کا استعمال عمل میں لایاگیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے کے ہاوسنگ بورڈ کے ٹھیکہ دار مفاد عامہ کے بجائے اپنا ذاتی فائدہ تلاش کررہے ہیں ۔حالانکہ ہاوسنگ بورڈ کی جانب سے زیر تعمیر کاموں میں سست رفتاری اور غیر معیاری میٹرئیل کے استعمال سے سرکارکی پول کھل جاتی ہے ۔کیونکہ متعلقہ ٹھیکہ داروںکو سرکاری افسران ومتعلقہ انجینئروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔جس کے نتیجے میں متعلقہ ٹھیکہ دار لوٹ کھسوٹ مچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔خزانہ عامرہ کا لوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیروترقی بھی بُری طرح متاثر ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ دفاتر ،اسپتال ،اسکول اورکالج مفاد عامہ پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کی تعمیر کے لئے عوام سرکار سے سال ہاسال تک منت وسماجت کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجودان کے جذبات اور احساسات ماند پڑتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاوسنگ بورڈ کے ٹھیکہ داروں کو جواب دہ بنایاجائے اوران کا احتساب کیا جائے اور نامکمل تعمیراتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ لوگوں کے خدشات وتحفظات بھی دور ہوسکیں گے ۔(کے پی ایس)










