کالعدم تنظیم کے ارکان کے خلاف بھی ہوگی کارروائی

پلوامہ کا ترکھان 3ماہ بعد50ہزار روپے کے مچلکہ پر ضمانت پر رہا

سرینگر//نئی دہلی میں مندر کے ایک پجاری کو مبینہ طور پر مارنے کے الزام میں پلوامہ کے ترکھان کو 3ماہ بعد دلی کی مقامی عدالت نے 50ہزار روپے کے مچلکہ پر ضمانت دی ہے۔ کے این ایس کے مطابق نئی دہلی میں پولیس نے رواں برس18مئی کو اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ پلوامہ کاایک شہری 24سالہ جان محمد ڈار عرف جہانگیر ساکن پلوامہ کو پہاڑ گنج میں ہوٹل سے گرفتار کرلیا جو داسنا دیوی مندر کے مرکزی پجاری کو مارنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ عدالت میں استغاثہ نے کہا کہ جان محمد ڈار کو پہاڑ گنج میں ایک ہوٹل سے 18مئی 2021کو گرفتار کیاگیا جو دہلی اور NCRمیںمذہبی اداروں کے سربراہوں کو مارنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اس موقعہ پر ملزم کے وکیل ِدفاع سرفراز وانی نے عدالت میں دلیل پیش کی کہ اس کا موکل کشمیر کا رہائشی ہے اور اس کے خلاف جو الزام عائد کئے گئے ہیں، وہ جھوٹے ہیں اور وہ گزشتہ 3ماہ سے جیل میں قید ہے۔ ایڈوکیٹ سرفراز وانی نے عدالت سے کہاکہ اس کا موکل پیشہ سے ایک ترکھان ہے اور وہ اپنے کنبہ کا واحد کفیل ہے جبکہ کیس کی مکمل تحقیقات کی گئی ہے اور اسے جیل کی سلاخوںکے پیچھے رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے لہذا اس کے موکل کو ضمانت دی جائے۔ استغاثہ اور وکیل دفاع کی دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نئی دہلی نے کہاکہ اس کیس کی جلد سماعت میں کافی وقت لگے گااور مبینہ ملزم کی قید کی مدت پر غور کرکے اسے مشروط ضمانت دی جارہی ہے ۔ جج نے کہاکہ استغاثہ اور وکیل دفاع کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے یہ محسوس کیا ہے کہ چارج شیٹ پیش کی گئی ہے اور ملزم کے پچھلے واقعات(antecedents) بے داغ ہیں۔جج نے ضمانتی حکمنامہ میں کہا کہ ملزم جام محمد ڈار کو 50ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ پر رہا جاتا ہے لیکن جب بھی عدالت میں حاضر ہونے کی تاریخ رکھی جائے گی، اسے حاضر ہونا ہوگا ۔ جج نے حکمنامہ میں مزید کہاگیا ہے کہ جان محمد ڈار اپنا موبائل فون ہر وقت آن رکھے گا اورموبائل فون پر گوگل میپ کے ذریعہ تحقیقاتی آفیسر کو اس بات کی معلومات ہونی چاہئے جہاں اور جس مقام پر بھی وہ موجود ہو جبکہ وہ موجودہ FIRکے سلسلہ میں دورانِ ضمانت کسی بھی جرم کا ارتکاب نہ کرے۔