Thousands of kanals of land in south Kashmir have dried up and become barren

جنوبی کشمیر کی ہزاروں کنال اراضی سوکھ کر بنجر بن چکی ہے

سرینگر// جنوبی کشمیر ضلع اننت ناگ کے درجنوں علاقوں میں ہزاروں کنال زرعی اراضی بنجر بن چکی ہے کیوں کہ ندی نالوں میں ریت اور بجر ی نکالنے سے پانی کی سطح کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے زرعی اراضی کو سیراب کرنے والی کوہل اور ندی نالے سوکھ چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ قریب ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک شدید گرمی اور بارش نہ ہونے کے سبب بھی زرعی اراضی خشک ہوچکی ہے ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ہانجی دانتر، نوتھو ، منگہال، پشواڑہ ، اور دیگر درجنوں علاقوں میں ہزاروں کنال زرعی اراضی بنجر بن گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو خاص طور پر کسانوں اور زمینداروں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق نالہ برنگی ، نالہ ساندرن، نالہ لدر اور دیگر بڑے نالوںسے غیر قانونی طریقے سے دن اور رات میں ریت اوربجری نکالنے سے ندی نالوںمیں پانی کی سطح کم ہوئی اور کھیت کھلیانوں کو پانی فراہم نہیں ہورہا ہے ۔ کسانوں نے بتایا ہے کہ اسی ماہ جب بییج زمین میں جست ہوجاتا ہے تو اس ماہ تک اس کو پانی کی سخت ضرورت ہے تاہم رواں ماہ بارش بھی نہیں ہو ئی اور گرمی بھی شدت کی تھی اس کے ساتھ ساتھ زمینوںکو سیراب کرنے والے ندی نالے سوکھ جانے سے ہزاروں کنال اراضی سوکھ چکی ہے ۔ لوگوںنے بتایا کہ اس ضمن میں محکمہ اری گیشن اور فلڈکنٹرول ، پی ایچ ای اور دیگر محکمہ جات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ زرعی اراضی کو سیراب کرنے کیلئے زمینداروں کیلئے پانی کی سپلائی کیلئے اقدامات اُٹھاتے تاہم ان کی جانب سے تماشائی بن بیٹھنا قابل حیرت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح سے اگر چلتا رہا تو لاکھوں کنال اراضی جو کہ زمینداروں کے زیر استعمال ہے بنجر بن جائے گی اور وادی میں زرعی سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچے گا۔لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی اراضی کیلئے پانی کی فراہم کو یقینی بنانے اور ندی لانوں سے ریت اور بجلی نکالنے پر عائد پابندی کو زمینی سطح پر عملانے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں۔