سرینگر// وادی کشمیر میں موسمی صورتحال میں غیر یقینی تبدیلی کے بیچ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ چار دہائیوں میں کشمیر میں گلیشیروں کی شرح 30 فیصد کم ہوگئی ہے۔جس کے باعث اگلے سالوں میںپانی کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ایک قومی رسالہ میں شائع شدہ رپورٹ میں دیکھا گیا ہے کہ واد ی کشمیر میں موسمی صورتحال میں غیر یقینی تبدیلی کا براہ راست اثر گلیشیروں پر پڑ چکا ہے اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ان میں 30فیصد کمی آچکی ہے ۔ اس تحقیق میں گلیشیر وں کا تعین کرنے کے لئے سیٹلائٹ امیجز (1980-2020) کی ایک سیریز کا استعمال کیا گیااور اس سے یہ پتا چلا ہے کہ گلیشیر 1980 میں 101.73 کلومیٹر مربع سے گھٹ کر 2020میں 70 کلومیٹر مربع ہوچکا ہے ، جس میں پچھلے چار دہائیوں کے دوران تقریبا 30 فیصد کا ختم ہو گیا ہے ۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گلیشیرز کی کمی کی وجہ سے وادی میں بدلتی آب و ہوا کے تحت جاری بہاؤ کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ساتھ ہی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ خطے میں گلیشیروں کا سکڑنا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سردیوں کے دوران اس خطے میں منسلک بارش (برف سے بارش) کی شکل میں بدلاؤ کی وجہ سے ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے دیگر خطوں کے مقابلے کشمیر میں گلیشیر کا نقصان زیادہ ہے۔انہوں نے کہا ہء کہ اگر آئندہ بھی گلیشیروں کا سکڑنا بدستور جاری رہا تو اس سے وادی میں پانی کی دستیابی پر خاص طور پر موسم گرما کے دوران اثر پڑے گا۔اور پانی کی شدید قلت محسوس ہو گی ۔










