حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلق جموں وکشمیر کے لوگوں سے ہے زمین سے نہیں:محبوبہ مفتی

حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلق جموں وکشمیر کے لوگوں سے ہے زمین سے نہیں:محبوبہ مفتی

سری نگر//سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے بدھ کے روز خبردارکیا کہ جموں وکشمیرمیں جاری پالیسی کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرگاندھی جی ،نہرئو اوراندراگاندھی کے وقت ہندوستان کی حالت آج کی طرح ہوتی تو جموں و کشمیر کبھی بھارت کے ساتھ رشتے کوآگے نہیں بڑھاتا۔انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت کویہ سمجھنا چاہئے کہ جموں وکشمیر سے ملک کاتعلق یہاں کے لوگوں سے ہے ،نہ کہ صرف زمین سے ۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق سرکٹ ہاؤس شوپیاں میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سیاستدانوں ، طلباء یا کارکنوں سمیت جو بھی بی جے پی کے خلاف بولتا ہے، اسے بھارت میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تمام وسائل بشمول ریلوے اسٹیشن ، پاور پروجیکٹس اور دیگر اہم چیزیں بیچنے کا سہارا لیا ہے اور انکی ملامت کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے کیونکہ وہ پورے ہندوستان میں ایسا کر رہے ہیں جو بھی ان کے خلاف بولے اسے جیل بھیجا جا رہا ہے اور ہم حریت کیلئے اُن سے اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے کہاکہ جموں و کشمیر کا الحاق پنڈت نہرئو ، گاندھی جی اور اندراگاندھی کے ہندوستان کے ساتھ ہوا جہاں ہر کوئی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ رہتا تھا اور اگر ہندوستان کی حالت آج کی طرح ہوتی تو جموں و کشمیر کبھی بھارت کے ساتھ رشتے کوآگے نہیں بڑھاتا۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو دبایا جا رہا ہے اور اگر یہی چیزیں جاری رہیں تو نتائج خطرناک ہوں گے۔محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی کارکن حراست میں نہیں ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے 1200 لوگ اب بھی بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں جن کے والدین ان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عوامی عطیات قبول کرنے پرمجبور ہیں ۔پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگ بہت غریب ہیں اور یہاں تک کہ وہاں کوویڈ کے بحران کے دوران کوئی کھانا نہیں تھا اور گنگا ندی میں لاشیں تیرتی ہوئی دیکھی گئیں ، لوگوں کے پاس کھانے کے لئے کھانا بھی نہیں اور پناہ کے لئے گھر بھی نہیں ، جو اکثر سڑکوں پر سوتے ہیں اور بہتر ہوتاکہ انہیں پہلے کھانا اور رہائش فراہم کرنا ہے اور اس کے بعد کشمیر کے پلاٹ بیچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی تقریبا ً10 لاکھ افواج موجود ہیں اور پلاٹوں کے حصول کیلئے 10 لاکھ مزید افواج یہاں لائی جا سکتی ہیں ، لیکن حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلق جموں وکشمیر کے لوگوں سے ہے زمین سے نہیں۔