حکمران اب بھی عوام کو راحت پہنچانے کے موڑ میں نہیں : نیشنل کانفرنس اراکین پارلیمان
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ریکارڈ توڑ مہنگائی اور حد سے تجاوز کرگئی بے روزگاری پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز اٹھائے جارہے اقدامات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت اب بھی عوام کو راحت پہنچانے کے موڑ میں نہیں ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پارٹی کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور حکومتی سطح پر قیمتوں کو اعتدال میں لانے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے جبکہ رسوئی گیس کی قیمتوں کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ ہر ماہ کے آخر پر گیس سلینڈر مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ صرف گذشتہ ایک سال میں گیس سلینڈر کی قیمت میں 65فیصد اضافہ ہوا ہے ۔جون 2020میں گیس سلنڈر کی قیمت632روپے تھی جبکہ آج اسی گیس سلنڈر کی قیمت 975روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اراکین پارلیمان کہنا تھا کہ حد سے زیادہ مہنگائی سے جموں وکشمیر میں عام آدمی کیلئے اخراجات زندگی پر ہونے والا خرچہ برداشت سے باہر ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی افراطِ زر کی شرح 5.59ہے جبکہ اس کے مقابلے جموں وکشمیر میں افراطِ زر 7.81تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے، مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ خاطر خواہ آمدن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا خرچہ برداشت کرنابھی محال ہوتا جارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 5اگست 2019کے بعد برپا ہوئے حالات اور کورونا وائرس سے ہوئے دوہرے لاک ڈائون سے یہاں کا پرائیویٹ سیکٹر بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ لاتعداد اعلی تعلیم یافتہ نوجوان عمر کی حد پار کر گئے ہیں جبکہ بہت سارے اس حد کو پہنچنے کے قریب ہے۔ اراکین پارلیمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ حکومت نہ تو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی طرف کوئی توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی بے روزگاری کو قابو کرنے کیلئے کوئی اقدام اُٹھایا جارہا ہے۔ صرف زبانی جمع خرچ اور کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ دوسال کے دوران کشمیر کو اندھیروں میں دھکیلنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوا ہے۔










