سری نگر//خصوصی پوزیشن ومنفرد شہریت کی منسوخی اورجموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نو کے2سال مکمل ہونے کے موقعہ پر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ واقع گپکارروڑ پر نصف درجن مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارمپیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کی ایک میٹنگ جمعرات کی صبح منعقد ہوئی ۔جے کے این ایس کے مطابقپی اے جی ڈی کے صدرڈاکٹرفاروق کی زیرصدارت اس میٹنگ میں الائنس کی نائب صدر محبوبہ مفتی ،الائنس کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی اورالائنس کے سینئرلیڈرمظفرشاہ بھی موجودتھے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پرہوئی میٹنگ میں5،اگست 2015کومرکزی سرکارکی جانب سے لئے گئے فیصلوں کے بعدگزشتہ 2برسوں کی صورتحال کاجائزہ لیاگیا۔پی اے جی ڈی لیڈروںنے گزشتہ2برسوں کے دوران مقامی حکومت کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات اورمرکزی قوانین کویہاں لاگو کئے جانے سے پیداشدہ صورتحال کوزیرغورلایا۔انہوں نے میٹنگ کے دوران اس عزم کااعادہ کیاکہ جموں وکشمیرکودفعہ370کے تحت حاصل خصوصی آئینی حیثیت اوردفعہ35Aکے تحت جموں وکشمیر کے لوگوں کوحاصل منفرد شہریت وحقوق کیساتھ ساتھ جموں وکشمیرکے ریاستی درجے کی بحالی کیلئے سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔ادھرمیٹنگ کے اختتام پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پی اے جی ڈی کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ اتحاد نے جائز حقوق کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ، 5 اگست 2019 سے جموں وکشمیرمیں حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکارنے دعویٰ کیا کہ معمولات بحال ہو جائیں گے اور تشدد ختم ہو جائے گا ، لیکن حال ہی میں پارلیمنٹ کے ایوان میں جموں وکشمیر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست کا درجہ صرف اس وقت بحال ہوگا جب معمولات بحال ہوں گے۔تاریگامی کے بقول اس کا مطلب یہ تھا کہ صورتحال ’غیر معمولی جاری ہے‘ اور 5اگست 2019کوکئے گئے امن کی بحالی کا دعویٰ غلط ثابت ہواہے۔ پی اے جی ڈی کے ترجمان کے ترجمان نے پوچھا کہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کہاں ہیں، مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے سے سب کچھ بدل جائیگااوربہترہوجائیگا۔انہوں نے کہاکہ 2سال کے بعددیکھیں کہ اب کشمیر ،جموں اورلداخ میں کون سی ترقی ہوئی ہے ،جوکچھ ہے ،وہ پرانی سرکاروں کادیاہواہے۔تاریگامی کاکہناتھاکہ مرکز نے دعوی کیا تھاکہ یہاں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جائے گی جو روزگار پیدا کرے گی ، جو نوجوانوں کے لئے امید پیدا کرے گی ، ذرا مجھے بتائیں ، وہ منصوبے کہاں ہیں ، وہ سرمایہ کاری کہاں ہو رہی ہے؟ کشمیر کے بارے میں بھول جاؤ ، جموں کا کیا ہوگا؟ وہاں کے چیمبر پوچھو ، یہاں کے چیمبر پوچھو اور لیہ کے لوگوں سے پوچھو۔ محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ مرکز کی طرف سے کئے گئے وعدوں میں سے کوئی بھی پورا نہیں کیا گیا۔بلکہ اس طرح کے قوانین کا نفاذ جو کہ لوگوں کی آزادی صحافت کو محدود کرتے ہیں ، آج کا حکم بن گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگرچہ ملک میں (کوروناکے پیش نظر) لاک ڈاؤن ہے لیکن ہمارا کشمیر 5 اگست 2019 سے مسلسل کریک ڈاؤن سے گزر رہا ہے۔










