سرینگر//وادی کشمیر میں سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کا رحجان دن بدن زور پکڑتا جارہا ہے جس کے باعث لوگوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عوامی جگہوں پر سگریٹ اور تمباکو نوشی پر عائد پابندی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اگرچہ حکومت کی طرف سے معمولی نوعیت کے اقدامات کئے گئے ہیں اور اسپتالوں و عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کی پاداش میں چند لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کئے گئے یہ اقدامات محض نمائشی نوعیت کے ہیں اور ان کی بدولت سگریٹ نوشی کی وبا کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی ہے ۔سگریٹ نوشی کے خلاف مہم اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب سماج کے ہر طبقے کو یہ احساس ہوجائے گا کہ اس بدعت کو معاشرے سے ختم کرنا ہے اور ہر فرد بشر کو اس سلسلے میں اپنا کلیدی رول نبھانا ہے ۔سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے متعدد شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے نونہال پود کے ساتھ ساتھ بڑے بزرگوں کو یہ بات ۔۔کرنا ہوگی کہ سگریٹ نوشی کس قدر انسانی صحت کیلئے ضرر رساں ہیں ۔فی الوقت وادی میں متعدد این جی اوز سگریٹ نوشی کے خلاف محاذ کھولے بیٹھی ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کو صحت کے حقیقی معنی سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ اب دور دراز جنگلی اور پہاڑی علاقوں میں مہم چلانے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔اگرچہ ا سلسلے میں جموں وکشمیر والنٹری ہیلتھ ایسوسی ایشن سرینگر جہاں ایک طرف جموں وکشمیر کے لوگوں کو سگریٹ اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے متعلق جانکاری فراہم کر رہا ہے ۔اسکولوں ،کالجوں ،شہر گاؤں جاکر سگریٹ تمباکو نوشی دیگر سماجی برائیوں سے بچنے کیلئے جانکاری فراہم کر رہا ہے وہیں اب اس ادارے نے وادیکے دور دراز علاقوں پہاڑی اور جنگلی گوجری علاقوں میں بڑے پیمانے پر مہم چلانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ادھر کچھ لوگوںکا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں مہم چلانے کی وقت کی اہم ضرورت کی ۔انہوں نے کہاکہ وادی کے اسپتالوں ،،عوامی جگہوں پر سگریٹ اور تمباکو نوشی پر عائد پابندی یقینی بنانا ہوگا۔










