جموںوکشمیر نے کاموں کے نفاذ میں شفافیت حاصل کی :ایل جی

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نےایک اِی۔ بُک جاری کی جو 9,514 پروجیکٹوں پر مشتمل 3,900 کروڑ روپے کے تصویری مجموعے پر مشتمل ہے جو کہ 2020-21 کے دوران مختلف یو ٹی سیکٹر سکیموں کے تحت جموں و کشمیر میں مکمل ہوئے ۔ اِی۔ بُک محکمہ خزانہ کی آفیشل ویب سائٹ www.jakfinance.nic.in پر ’’پبلیکیشنز ‘‘کے تحت دستیاب ہے ۔ یہ معیشت کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کی ایک بصری جھلک ہے اور مکمل ہونے والے پروجیکٹوں کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرتا ہے ۔ اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات اور محکمہ خزانہ کی جانب سے شروع کی جانے والی مداخلتیں اَب زمینی سطح پر اثرات ظاہر کر رہی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کُل پروجیکٹوں میں سے 6,167 پروجیکٹ ایک سال کے اندر مکمل ہو چکے ہیں جو کہ زمینی سطح پر شفاف اور تیزی سے عملدرآمد کی ایک مثال ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تصویروں کا مجموعہ تمام معیار کے پیرا میٹروںکے ساتھ پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کیلئے عمل آوری ایجنسیوں کیلئے ایک تحریک کا کام کرے گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ہر سرکاری کام کو پبلک ڈومین میں ڈال رہے ہیں تا کہ یو ٹی میں کام کے کلچر میں زیادہ سے زیادہ احتساب اور شفافیت لائی جا سکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لوگوں کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق خرچ کیا گیا ہو ۔ اُنہوں نے کہا کہ مزید اصلاحات جاری ہیں جس سے ترقیاتی حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور حکومت کی کوششوں کو تقویت ملے گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جیو کوآرڈی نیٹ اور فوٹو گرافی کے شواہد کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی مناسب دستاویزات کاموں پر عمل در آمد میں شفافیت اور جواب دہی کو بڑھانے کی کوشش ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر یوٹی نے مالی انتظامات میں بے مثال شفافیت حاصل کی ہے جس میں حکومت کی جانب سے متعدد مالی اصلاحات اور مداخلتیں کی گئی ہیں جن میں فنڈ کی سرگرمی کے مطابق آن لائن ریلیز بذریعہ’’بیم‘‘ (بجٹ تخمینہ ، الوکیشن اور مانیٹرنگ سسٹم) ،’’ ایمپاورمنٹ‘‘ (قابل عمل شفافیت کے لئے کاموں کی نگرانی اور عوامی جائزہ کو قابل بنانا اور وسائل) ویب پورٹل جس کے تحت منصوبوں اور متعلقہ ایکسپنڈیچر کی تفصیلات پبلک ڈومین میں ڈال دی جاتی ہیں ، انتظامی اور تکنیکی منظوری ، ای ٹینڈرنگ ، جیو ٹیگ شدہ تصاویر ادائیگی کے لئے لازمی ،’’جے کے پے منٹ سسٹم ‘‘کے ذریعے آن لائن بلنگ ،جی ایس ٹی کی سٹریم لائننگ، ای۔ سٹیمپنگ ،اِی۔جی آر اے ایس ،ڈیجیٹل ادائیگی ،جی اِی ایم کی عمل آوری ، بجٹ اور آڈٹ سے متعلق اہم دستاویزات کی اشاعت ،بیک ٹو وِلیج اور میرا قصبہ میرا فخر، اقدامات اور منصوبوں کی صد فیصد طبعی تصدیق شامل ہیں۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ شروع کئے گئے مالی اصلاحات میں منصوبوں کی بروقت تکمیل توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ2018-19 کے دوران مختلف یوٹی سیکٹر سکیموں کے تحت 6,090 منصوبے مکمل ہوئے۔اِسی طرح2019-20 کے دوران مکمل ہونے والے منصوبوں کی تعداد 6,933 تھی جو2020-21 کے دوران بڑھ کر 9514 ہوگئی (گزشتہ مالی سال سے 37 فیصد زیادہ)۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان تمام منصوبوں میں سے 86 فیصد 02 برس کے عرصے میں اچھی طرح سے مکمل ہوچکے ہیں۔چیف سیکرٹر ی نے کہا کہ 9,514 پروجیکٹ مختلف یو ٹی سیکٹر سکیموںاورپروگراموں کے تحت تقریبا 3,900 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئے جو کہ معیشت میں بڑے پیمانے پر اثاثہ سازی ہے۔ اِن منصوبوں کے فوائد عوام تک پہنچیں گے جو ہمارا بنیادی مقصد ہے۔اِس موقعہ پر راج بھون میںلیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار ، ڈائریکٹر جنرل ایکسپنڈیچر ڈویژن۔II محکمہ خزانہ طارق احمد خان ،ڈائریکٹر جنرل بجٹ محکمہ خزانہ ایم وائی اِیتو،ڈپٹی ڈائریکٹران محکمہ خزانہ عاشق کھانڈے اورشفاعت یحییٰ موجود تھے۔