کپوارہ//گزشتہ چند روز سے ہورہی مسلسل بارشوں کی وجہ سے سرحدی ضلع کپوارہ کے خمریال لولاب علاقے میں دوران شب سیلابی ریلے نے تباہی مچادی اور پانی گھروں ،کھیتوں اورباغات میں داخل ہو،۔،جسکے نتیجے میں گھریلو سامان ،کھڑی فصلوں اورمیوہ جات کوبھی نقصان پہنچا جبکہ پانی کے ایک تیز ریلے نے کئی گاوں کو ملانے والے نوابازار خمریال پُل میں تہس نہس کردیا۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ شب کلاروس میں بادل پھٹنے کے بعد ندی نالوں میں پانی کی طغیانی بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں خمریال لولاب علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ پانی کے تیز بہائو نے دھان کی فصل، ایک کلوٹ اور ایک گاڑی کو اپنی زد میں لیا ۔ پانی کے تیز بہائو سے یہاں سیلاب جیسی صورتحال پیداہوگئی ،کیونکہ پانی گائوں میں واقع رہائشی مکانات میں بھی داخل ہوگیاجسکے باعث لوگوں گھروں میں محصور ہوکررہ گئے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے اضافی پانی رہائشی مکانات میں داخل ہوا اور خمریال علاقہ سے ملحقہ دیہات جن میں سلکوٹ،گنڈماچھر، گوس،کاشیراہ،اسگنڈ اور میرحلہ کی سڑکیں زیر آب آگئیں ،جسکی وجہ سے لوگوں کو عبور و مرور میں کافی مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ تیز بارشوں کی وجہ سے ایک پانی کے ریلے نے کھڑی فصلوں کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس دوران خمریال لولاب کے نزدیکی گائوں اسگنڈ میں شدید بارش کی وجہ ست دھان کی فصلوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچا اور کئی رہائشیمکانات کے اندر پانی داخل ہوا،جن میں عاشق حسین بٹ کامکان بھی شامل ہے۔لوگوں نے مزیدبتایاکہ نوابازار خمریال میں پانی کے ریلے نے کئی گائوں کوملانے والے ایک کلورٹ نما پْل کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا جسکی وجہ سے علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے عبور و مرور میں کافی دشواریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ اس دوران ضلع ترقیاتی کمیشنر امام الدین کپوارہ نے خمریال لولاب کادورہ کر کے از خود حالات کا جائزہ لیا۔انہوں نے سرکاری افسروں اور ملازمینکوموقعہ پرہی ہدایت دی کہ وہ لوگوں کے جان و مال کو بچانے کے لئے اقدامات اْٹھائیں۔خمریال لولاب میں گْزشتہ کئی سال سے آبی اول اراضی پر ہورہی تعمیرات کے ساتھ ساتھ ناقص ڈرینیج نظام ہونے کی وجہ سے سیلابی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ خمریال لولاب میں آبی اول اراضی پر ہورہی ناجائز تعمیرات پر روک لگائی جائے اور ڈرینیج نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اْٹھایے جایں تاکہ سینکڑوں نفوس پر مشتمل لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










