زندگی ایک قیمتی شئے ،اس کومنشیات کی لت مبتلا کرکے تباہ نہ کرو/نوجوانوں کا پیغام
سرینگر / /شمالی کشمیر کے تین نوجوانوں نے صرف دو دن میں سائیکل پر سوار ہوکرلداخ کا سفر طے کیا ۔اس سفر کا بنیادی مقصد وادی کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ زندگی ایک قیمتی شئے ہے اس کو خرافات میں ڈال کر ضائع نہ کرنا بلکہ اس کی قدرکرکے زندگی سکون جینا اور دوسروں کا معاون و مدد گار بن کر انسانیت کی حقیقت کو سامنے لانا تھا ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق تین نوجوانوں بشمول محمد عادل تانترے (17)ساکنہ پلہالن،دانش نبی گنائی (20)ساکنہ کرانکشون سوپوراور شعیب رحمان لون (21)ساکنہ کرانکشون سوپور22جولائی 2021کو 12;30بجے دن سوپور سے سائیکلوں پر روانہ ہوئے اور 24جولائی2021کو6;00بجے شام لداخ پہنچ مثالی کارنامہ انجام دیا اور صر ف دو دن میں ہی 425کلومیٹر طے کئے جبکہ کئی دن وہاں ٹھہرانے کے بعد 29جولائی کو وادی واپس پہنچے ۔سائیکل سواروں نے پلے کارڈس ساتھ رکھے تھے جن پر منشیات مخالف الفاظ واضح درج تھے ۔بتایاجاتا ہے کہ پلہالن اور سوپور پہنچنے پر لوگوں نے ان نوجوانوں کا پھولوں کی مالائیں پہنا کر والہا نہ استقبال کیا ۔اس دوران نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس سفر بنیادی مقصد نوجوانوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ انسانی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے اور زندگی ایک عظیم شئے ہے اور اس کاضائع کرنے کی کوئی کوشش نہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ان نوجوانوں کیلئے ایک اہم پیغام ہے جو منشیات کی لت میں بُری طرح مبتلا ہورہے ہیں اور اپنی عظیم زندگیوں ضائع کرتے ہیں اور گنواں بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دو دنوں میں ان سائیکل سواروں نے بڑی مسافت کی منزل طے کرکے قدرتی مناظر کا مشاہدہ کیالیکن جو منشیات میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ ان سیروتفریحات سے دور رہتا ہے اور اس کیلئے زمین تنگ ہوجاتی ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ زندگی کو عظیم تصور سمجھ اس کو ضائع کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ قدرتی مناظر کو دیکھنے کیلئے اپنی منزلیں تلاش کریں اور منشیات سے بچنے اور دوسروں کو بچانے میں رول ادا کریں ۔تاکہ ہمارا معاشرہ بھی تباہی بچ سکے










