سرینگر //وادی میں بڑی تیزی سے معاشرتی برائیاں پنپ رہی ہیں ۔جبکہ منشیات کا رجحان آئے روز بڑھتا جارہا ہے جو قابل تشویش عمل ہے ۔وادی کشمیر کے شہر ودیہات میںمنشیات کے اڈے بنائے گئے اورشراب کی دکانیں کھولی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں منشیات کی لت میں نوجوان طبقہ بڑی تیزی سے مبتلا ء ہورہا ہے ۔منشیات کے رجحان کو کم کرنے کیلئے اگرچہ پولیس ہر جگہ پر مہم جاری رکھی ہوئی ہے تاہم اب تک منشیات میں ملوث شخص کو ایسی سزا نہیں دی گئی ہے جس سے وہ تنبیہ حاصل کریں جس کے نتیجے میں منشیات کی وباء پنپ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اس بُری لت میں مبتلاہورہے ہیں ۔جبکہ کالجوں،اسکولوں یا دوسرے اداروں میں تعلیم وتربیت حاصل کررہے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بازاروں ،گلی کوچوں ،ہوٹلوں اور پارکوں کی زینت بنے ہوئے ہیں اور ان مقامات میں ایسی بے حیائی اپنائی جارہی ہے کہ سماج کے ہر کسی حساس شخص کے رونگھٹے کھڑا ہوجاتے ہیں ۔ کشمیر پریس سروس کو شہر ودیہات کے مختلف علاقوں سے آئے روز شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بے حیائی اور منشیات کے اڈے قائم کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے سرکاری سطح پر اس کا تدارک کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔اس دوران رفیع آباد ،سوپور اور بارہمولہ کے مختلف دیہات کے ذی عزت شہریوں نے بتایا کہ چرس اور نشہ آور ادویات کی لت میں نوجوان نسل یہاں تک کمسن بچے بڑی تیزی سے مبتلا ہورہے ہیں جس سے ایک ان کا مستقبل تاریک ہورہا ہے ۔دوسرا ان کی صحت تباہی کی طرف گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ نشے کی لت میں مبتلا بیشترنوجوانوں یا بچوں کی آمدنی کے ذرایعے بالکل محدود ہیں اور وہ نشہ کے ادویات یا چیزیں نہ ملنے پر نقب زنی کا کام انجام دے رہے ۔اس سے وہ ایک جرم کے ساتھ کئی اور جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جو ان کی زندگیوں کیلئے زہر قاتل کے طور ثابت ہوتے ہیں اور والدین کیلئے ایک ایسا عذاب بن جاتا ہے کہ نہ سماج میں منہ دکھانے کے قابل رہتے ہیں اور نہ ہی اپنے لخت جگروں کو باز رکھنے کی سکت رکھتے ہیں ۔بلکہ ان کا ضمیر ان کو اندر ہی اندر کوستا رہتا ہے کہ ان کی تربیت میں کوئی کمی رہی ہوتی ہے جس کا خمیازہ ان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جو خرابیاں رونما ہوتی ہیں ان کی جڑ منشیات ہی ہے کیونکہ چوری ،ڈیکیتی ودیگر سماجی برائیاں اسی سے پنپتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اگرچہ منشیات مہم چلارہی ہے تاہم اس کے دورس نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں کیونکہ ملوثین کے خلاف ایسی کاروائیاں انجام نہیں دی جارہی ہیں جس سے اس کاتدارک ممکن ہے ۔اب یہ مہم پولیس کی روایت بنی ہوئی ہے ۔یہ فیشن کے بطور چھاپہ ماری اورگرفتاری تک محدود رہی ہے ۔تھانے کی کال کوٹھری میں کئی گھنٹے بند رکھ کر ان کے آقائوں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کے ہی مشوروں پر فیصلے بتاتے ہیں ۔چائے ،دانہ پانی کے نام پرسمجھوتہ کرکے ان کی رہائی کو ممکن بناتے ہیں ۔اس سے ذاتی فائدے وہ حاصل کرتے ہیں لیکن سماج میں وہ ایسا ناسور پھیلاتے ہیں جو ایک وباہ کی صورت اختیار کررہاہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کی زندگیوں اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرکے خزانہ عامرہ یا اپنے گھر آباد کرنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ نوجوان نسل ہمارے سماج کا کل ہیں اور بہر صورت ان میں بُری عادت سماج کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کہ ایسا سیلاب امڈ آئے جس کی روک مشکل ہی نہیںبلکہ ناممکن بن جائے سماج میں پنپ رہی بے راہ روی اور منشیات کے بڑھتے رجحان کے انسداد کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ ہمارے سماج کے نوجوان منشیات اور بے حیائی کی لت میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہ سکیں گے اور ہمارا معاشرہ تباہی سے بچ جائے گا ۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی اور اجتماعی طور ایسے طریقہ کار اپنائے جائیں ۔گھروں ،مساجد ،مکاتب ،پارکوں اوربازاروں میں کونسلنگ کا آغاز کیا جائے جس سے عین ممکن ہے کہ کم از کم ایک خاصی تعداد اس بُری لت سے واپسی اختیار کرکے اپنا صحیح راستہ تلاش کرسکیں گے ۔لہٰذا تدارک کیلئے فوری اقدام اٹھائے جائیں ۔










