سری نگر //گزشتہ برس کے اوائل میں چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والی عالمگیر وبائی وائرس کورونایاکووڈ19نے محض ڈیڑھ برسوں میں عرب وعجم اورمشرق ومغرب ابتک تقریباً41لاکھ انسانوں کوموت کی نیندسلادیاہے ۔خاندانوں کے خاندان تباہ ہوگئے ،بچے یتیم اوربزرگ والدین بے سہاراہوگئے ،خواتین بیوہ ہوگئیں اوربہنیں اکلوتے بھائی سے محروم ہوگئیں ۔کشمیرنیوزسروس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق طبی ماہرین اورسائنسدان کہتے ہیں کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ یہ اقوام عالم کے سروں پرمنڈلاتا بڑاخطرہ ہے ۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹس یااقسام کے پھیلائو سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کورونا کی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس کے پھیلائو کا رجحان خطرناک ہے، اس وقت کورونا کے ویرینٹ یااقسام جیسے ’ایلفا‘، ’بیٹا‘، ’گاما‘ اور ’ڈیلٹا‘ باعث تشویش ہیں۔عالمی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ کورونا کے زیادہ خطرناک ویرینٹ یااقسام آسکتے ہیں جنہیں کنٹرول کرنا چیلنجنگ ہوگا۔دنیا ہلاکت خیز کورونا وائرس کی موذی وباء سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور اس کے باعث اموات میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 کروڑ 93 لاکھ18 ہزار691 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 40 لاکھ76 ہزار935 ہو چکی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ کرونا وائرس کے نئے ویرئنٹ سامنے آ رہے ہیں اور خطرات ابھی باقی ہیں۔یومیہ ا موت کے ساتھ ساتھ کورونا کے پھیلائو اوراثرات بھی کچھ کم پریشان کن نہیں۔ خاندانوں کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ اور بعض گھروں میں تو صرف بچے ہی باقی رہ گئے جو یا تو ماں باپ میں سے کسی ایک سے محروم ہوئے ہیں یا ماں باپ دونوں ہی کے چلے جانے کے بعد بالکل بے سہارا ہو گئے۔یہ وہ المیہ ہے جو دنیا بھر میں بڑے شہروں میں، چھوٹے چھوٹے گاؤں میں، بھارت کی ریاست آسام سے لے کر امریکی ریاست نیو جرسی تک ہر مقام پر موجود ہے۔کرونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس سے بچاؤ کی ویکسین کا دنیا نے شدت سے انتظار کیا۔ اب کئی طرح کی ویکسین دستیاب ہیں اور لوگوں کو لگائی بھی جا رہی ہے، مگر پھر بھی موت کا سلسلہ رکا نہیں۔ اس وائرس کے نئے ویرئنٹ بہت سے ملکوں میں اب بھی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔










