سرینگر / /وسطی کشمیر ضلع بڈگام کے ایجوکیشن زون چرار شریف میں گذشتہ کئی برسوں سے کام کررہے ایجوکیشن والنٹرئیرس (EV”s)نے زونل ایجوکیشن آفیسر چرار کیخلاف پریس کالونی سرینگر میں زور دار احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل اساتذہ نے بتایا کہ وہ سال 2006سے زون کی مختلف بہکوں میں کام کررہے ہیں اور اب تک محکمہ تعلیم کے تمام افسران نے اس بات اتفاق کیا تھا کہ جواساتذہ سالہاسال سے دور افتادہ بہکوں میں کام کرکے پسماندہ طبقہ بکروالوںکے بچوں کو پڑھاتے ہیںان کو ترجیحی بنیادوں پر اس رضاکارانہ کام پر مامور رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی مہاماری اور برفباری نے جہاں پوری وادی میں معمولات زندگی درہم برہم ہوئی تو ان حالات میں ایجوکیشن والنٹرئیرس کی خدمات بھی متاثر ہوئی تاہم EVs نے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھی۔انہوں نے کہا کہ چیف ایجوکیشن آفیسر بڈگام نے آرڈر زیرنمبر CEOB/SmS/21/396-420بتاریخ 8-05-2021نے جاری کیا ہے جس میں موصوف نے زونل ایجوکیشن آفیسر کھاگ ،خانصاحب ،ناگم ،چاڈورہ اور چرارشریف کوہدایت دی کہ کہ وہ نئی بھرتی میں سب زیادہ ان EVsکو ترجیح دیں جو گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل بہکوں میں کام کررہے ہیںاور انہی کو دوبارہ شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہپروجیکٹ ڈائریکٹرسماگراشکشاڈاکٹر ارن منہاس تمام چیف ایجوکیشن آفیسران سوائے کٹھوعہ اور سرینگر کے نام ایک آرڈر زیر نمبر Edu/Plan-SE/843-I/2013-14بتاریخ30-03-2021نے اس میں واضح کیا ہے کہ جو کئی برسوں سے بہکوں میں بطور EVsیعنی ایجوکیشن والنٹرئیرس کام کررہے ہیں اور نئی بھرتی میں ترجیحی بنیادوں پر شامل رکھا جائے ۔جبکہ چیف ایجوکیشن آفیسر بڈگام کے جاری شدہ آرڈر زیر نمبر CEOB/SSA/18/7080-88بتاریخ 23-01-2018میں واضح کیا گیا ہے کہ جو بہکوں میں ایجوکیشن والٹریئرس کئی برسوں سے کام کررہے ہیں ان کا کام متاثر نہیں کرنا کیونکہ ان کا معاملہ سب عدالت میں زیر بحث ہے اور عدالت کا فیصلہ آنے ؎تک ان کو اپنی جگہوں پر کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کوڈ کے دوران سبھی ایجوکیشن زونز کے EVs کی تنخواہیں واگذار کی گئی لیکن زون چرار کے EVs کی تنخواہیں نامعلوم وجوہات کی بناء پر روک دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ زون میں رشوت خوری کا بازار گرم ہے اوربغیر کسی بنیاد کے ان Evs کو مایوس کرتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں دورافتادہ بہکوں میں پسماندہ طبقہ کے بچوں کو توجہ اور دلچسپی سے پڑھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا ہے کہ زون میں تعینات کلرک سیزنل ایک استاد نے گھر میں جعلی رپورٹ بناکریہ کہا تھا کہ زون چرار میں کوئی بہک نہیں ہے جبکہ درجنوں EVsگذشتہ کئی برسوں سے ان بیکوں میں کام کررے ہیں اور ان کا رپورٹ فراڈ اور دھوکہ پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر زون میں کوئی بہک نہیں تھی تو نوٹیفیکشن کس طرح جاری کی جاتی ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ تعلیم کے حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زونل ایجوکیشن آفیسر چرار شریف کو خبردار کریں کہ وہ عدالتی فیصلہ کا انتظار کرتے ہوئے کئی برسوں سے بطور EVs کام کرنے والے اساتذہ کی بھرتی ترجیحی بنیادوں پر وعمل میں لائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورا ہوسکیں گے بصورت دیگر مذکورہ ای ویز ان کے خلاف احتجاج کی راہ اختیار کریں گے اس کے بعد جو نتائج برآمد ہونگے اس کی ساری ذمہ داری زونل ایجوکیشن آٖیسر پر عائد ہوگی ۔اس سلسلے میں کے پی ایس کے نیوز ڈیسک سے چیف ایجوکیشن آفیسر غیر موجودگی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پلاننگ آفیسر بڈگام کے ساتھ رابطہ قائم کیا تو موصوف نے بتایا کہ زونل ایجوکیشن آفیسر چرار کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ باضابطہ طور EVsبہکوں میں ویرفکیشن کی جائے کہ کون کہاں کام کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان ہدایات کے تحت زون آفیسر نے وریفکیشن کا عمل انجام دیا ۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ زون میں کئی بلیک شیپس ہیں جنہوں نے کئی EVsکو فہرست میں رکھا ہے لیکن وہ عملاً کہیں موجود نہیں ہیں اور وریفیکشن کا بھی یہی مقصد تھا تاہم انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ برسوں سے کام کرنے والے EVsکو ترجیح دیں گے ۔










