اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے میں حق گوئی کو متعارف کیا:الطاف بخاری

اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے میں حق گوئی کو متعارف کیا:الطاف بخاری

سرینگر/اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے میں حق گوئی کو متعارف کرنے میں انفرادیت رکھتی ہے۔ ضلع کپواڑہ کے نگری۔ہندواڑہ علاقہ میں عوامی اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ یہ اپنی پارٹی ہی تھی جس کوجموں وکشمیر سے دفعہ370کی منسوخی کے بعد صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ملاقات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’بی ‘ٹیم کہاجارہاتھا۔ انہوں نے کہا’’اب میں اُن سیاسی جماعتوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ، سی، ڈی یا ای ٹیمیں ہیں کیونکہ آپ نے بھی تو اُسی وزیر اعظم سے ملاقات کی اور وہی مطالبات کئے جوہم نے پہلے ہی 8مارچ2020کو اپنی پارٹی کے قیام کے موقع پر اُجاگرکئے تھے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جن سیاسی جماعتوں نے جموں وکشمیر میں حالیہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کو دفعہ 370اور35Aکی بحالی کے ساتھ جوڑا تھا، بعد ازاں اِس حساس معاملہ پر یو ٹرن لے لیا، میں اُس وقت کے الائنس کے اتحادیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے دفعہ 370اور35Aکی بحالی کے معاملہ پر ڈی ڈی سی نشستیں جیتیں تھیں، کیوں اب وہ اِن نشستوں کو خالی نہیں کردیتے، کیونکہ انہوں نے انتخابات کے بعد عوام کے سامنے یہ بات مانی ہے کہ دفعہ370اور35Aکی بحالی سے متعلق اُن کا سابقہ موقف تکنیکی اور اخلاقی طور غلط تھا‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران دفعہ 370اور35Aکی بحالی کے معاملہ کو اِن سیاسی جماعتوں کی طرف سے گرمانا ، صرف اپنی دہائیوں کی حکمرانی کے دوران ناکامی پر پردہ ڈالنا تھا۔ بخاری نے کہا’’اٹانومی سے لیکر سیلف رول اور الگ ریاست تک ، ان سیاسی جماعتوں نے لوگوں کو چاند اور تارے توڑ لانے کے بعد کئے، میری عوام سے مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ اِن سیاسی جماعتوں اور لیڈران کی کارکردگی کا بغورجائزہ لیں اور پھر اپنے مستقبل کے حق میں کوئی بہتر فیصلہ کریں کیونکہ کھوکھلے دعوؤں اور جذباتی نعرؤں پر یقین کر کے کب تک خود کو اندھیرے میں رکھاجائے گا‘‘۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ سیاسی لیڈران کو کارکردگی اور زمینی سطح پر عملی اقدام کی بنا پر جوابدہ بنائیں، بدقسمتی سے لوگ چند سیاسی جماعتوں اور لیڈران کوپچھلی کئی دہائیوں سے جوابدہ بنائے بغیر ہی اُن کی حمایت کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت ختم ہونی چاہئے اگر آپ صحیح معنوں میں اپنے علاقوں کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہو۔‘‘۔انہوں نے کہاکہ سیاسی معاملات پر حق گوئی اور صداقت سے ہی اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں ایک بڑی طاقت بن کر اُبھر رہی ہے، دیگر سیاسی جماعتیں بھی دفعہ370اور35Aسے متعلق اپنی پارٹی کے صداقت پر مبنی موقف کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہاتھاکہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کی بحالی کا اختیار ملک کی پارلیمنٹ یا عدالت عظمیٰ کو ہے، ہم نے ہمیشہ سچ بولا، ہم لوگوں کو انتخابی فائیدے کے لئے بیوقوف بنانے پر یقین نہیں رکھتے‘‘۔ اپنی پارٹی سنیئرنائب صدر غلام حسن میر نے کہاکہ یہ اپنی پارٹی ہی تھی جس کو حکومت ِ ہند کی طرف سے پہلی تحریری یقین دہانی ملی کہ جموں وکشمیر میں دفعہ370اور35Aکی منسوخی کے بعد کوئی ڈیموگرافی تبدیلی نہیں ہوگی، دیگر جماعتوں نے خاموشی اختیار کی تھی اور مشکل کی اُس گھڑی میں خاموشی تماشائی بننے کو ترجیحی دی۔ میر نے کہاکہ اپنی پارٹی کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں، ایجنڈا، موقف اور پالیسی واضح ہے، سیاسی دوغلے پن کو ہم نے کبھی ترجیحی نہیں دی، ہم دلی، سرینگر اور جموں میں ایک ہی بات کرتے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ اِس سیاسی دوغلے ہی کی وجہ سے دہائیوں سے جموں وکشمیر کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ میر کے علاوہ اس اجلاس میں صوبائی صدر محمد اشرف میر، ضلع صدر کپواڑہ راجہ منظور، ضلع نائب صدر عبدالرحیم راتھر، ضلع نائب صدر عبدالرشید بھٹ، ضلع سیکریٹری بلال عارف، ضلع کارڈی نیٹر ڈاکٹر تجمل اور محمد مقبول بھٹ، سید اشرف، ارشاد ملک، ایوب کٹاریہ، حفیظ اللہ بخشی، منظور گنائی، اعجاز میر، محمد امین پیر، شبیر احمد، فاروق چیچی، غلام قادر وانی، حبیب اللہ، قیوم گیلانی، محمد شفیع اور عاشق حسین بھی موجود تھے۔