سرینگر //آبی ذخائر کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے محکمہ اری گیشن اور فلڈ کنٹرول کوئی توجہ نہیں دے رہاہے اور متعلقہ محکمہ کی عدم توجہی کے کے نتیجے میں لوگ پانی کی نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق بابل کوہل جو درنگ سے نکلتی ہے اور مذکوررہ کوہل ٹنگمرگ سے گذرکرقاضی پورہ ،کھی پورہ ،سیون ،مادم ،دی درگنی ،شوم ،شیخ پورہ ،کائو چک ،کریری اور تاپر علاقوںمیں بہتی ہے ۔ لیکن اس کوہل میں مقامی لوگ کوڑا کرکٹ پھینکتے رہتے ہیں جبکہ ان علاقوں کے ڈرینج کا سار گندہ پانی اس میں ہی بہہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ کوہل میں گندگی کے ڈھیر جمع ہوئے ہیں اور اس کا پانی آلودہ ہوا ہے جس سے ایسی بدبو پھیلی ہوئی ہے کہ ان علاقوں میں بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ جب ہی علاقہ میں واٹر سپلائی مسدود ہوجاتی تو اس وقت اسی کوہل کے پانی کو پائیپوں کے ذریعے سپلائی کیا جارہا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ’’ زرن سٹاف ‘‘میں نصب ٹینکی میں مذکورہ کوہل کا پانی جمع کیا جارہا ہے اور پھر گرڈ کے ذریعے اس پانی کو لوگوں تک پہنچایاجاتا ہے ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے نمائندے کو بتایا کہ مذکورہ کوہل کا پانی مجبوری کے باعث پینے کیلئے استعمال میں لایاجاتا ہے اور زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے استعمال کیاجارہا تھا لیکن لوگ اس میں گندوغلاظت اور کوڈا کرکٹ اس کو تباہ کررہے ہیں جبکہ محکمہ اری گیشن اس کی صفائی کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے جس کے نتیجے میں کوہل کا پانی گند آلود ہوا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کی صفائی وستھرائی اور اس کو جاذب النظر بنانے کیلئے فوری طور اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مذکورہ کوہل کی شان رفتہ بحال ہوسکے اور اس کا پانی لوگوں کیلئے راحت رسانی ثابت ہوجائے ۔










