سری نگر// نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بالی ووڈ کے معروف ادا کار دلیپ کمار کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ادا کار کو کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔انہوں نے کہا کہ دلیپ کا کمار کا کوئی ثانی نہ ہی فلم انڈسٹری میں تھا اور نہ ہی انسانیت میں ان کی جیسی کوئی دوسری مثال ہے۔فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز اپنے ایک ویڈیو بیان میں کیا ہے۔بیان میں ان کا کہنا تھا: ‘آج صبح بہت ہی افسوس ناک خبر سنی کہ دلیپ کمار صاحب دنیائے فانی سے چل بسے، وہ بہت ہی نیک آدمی تھے اور ان کا نہ فلم انڈسٹری میں کوئی مقابلہ ہے اور نہ ہی انسانیت میں ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرحوم ادا کار کو کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ بے حد محبت تھی۔انہوں نے کہا: ‘انہیں کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ بے پناہ محبت تھی وہ کئی بار یہاں آئے اور ہر بار یہی کہتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ کچھ یہاں کروں لیکن موقع نہیں ملا۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے ویڈیو بیان میں مرحوم کے لواحقین خاص کر ان کی بیگم کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کی۔دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی دلیپ کمار کے انتقال پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر مرحوم کے جملہ خاندان خصوصاً اُن کی اہلیہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔بتادیں کہ دلیپ کمار بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے ممبئی کے ہندوجا ہسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ 98 برس کے تھے۔ انہیں بدھ کی شام جوہو قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔پاکستان کے شہر پشاور میں 11 دسمبر 1922 کو جنم لینے والے دلیپ کمار غالباً 1935 میں کاروبار کے سلسلے میں ممبئی چلے آئے۔ ان کا اصل نام محمد یوسف خان تھا۔دلیپ کمار نے 22 برس کی عمر سے فلمی دنیا میں اپنے کیرئر کا آغاز کیا اور 6 دہائیوں پر مشتمل اس کیرئر میں انہوں نے 65 سے زیادہ فلموں میں اپنی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ان کی یاد گار فلموں میں شہید، مغل اعظم، میلہ، دنیا کے پار، بابل، فٹ پاتھ، دیوداس، نیا دور، گنگا جمنا وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔










