کوڑاکرکٹ کوٹھکانے لگانے کاکوئی اانتظام نہیں

بلدیاتی ادارے وادی کشمیر کے قصبوں سے نکالے جانے والے کوڑاکرکٹ کو سائینسی طور طریقے سے ٹھکانے لگانے میں نا کام ثابت ہو ئے اوراس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے قصبوں سے نکالے جانے والے کوڑاکرکٹ کو آبی پناہ گاہوں کے قریب ڈالاجارہاہے جس سے آبی پناہ گاہوں سے نکلنے والا پانی مضر صحت بن رہاہے اور کھلی جگہوں پرکوڑاکرکٹ ڈالنے کے باعث وبائی بیماریاں پھوٹ پڑے کے بھی امکانات پیدا ہوگئے ہے ۔بلدیاتی اداروں کومتحرک کرنے کے بعد اس بات کی امید پیدا ہوگئی تھی کہ شہروں اور قصبوں سے نکالے جانے والے کوڑا کرکٹ کوسائینسی طور طریقوں سے ٹھکانے لگا نے کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے تاہم لوگوں کی یہ امیدیں اس وقت مایوسی میں تبدیل ہوگئی جب بلدیاتی اداروں کی جانب سے شہروں اور قصبوں سے نکالے جانے والے کوڑا کرکٹ کو جنگلوں آبی پناہ گاہوں اور کھلی جگہوں پر ڈالنے کے انکشافات سامنے آئے ۔ شہرائی آفاق صحت افزاء مقام پہلگام میں قصبے سے ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جوکوڑاکرکٹ نکالاجارہاہے وہ نالہ لیدر کے دامن پرڈالاجارہاہے اسی طرح پھرسل ،یاری پورہ میونسپل کمیٹیوں کی جانب سے نکالے جانے والے کوڑا کرکٹ کو آبی پناہ گاہوں کے دامن پرڈالاجارہاہے یہی حالت شوپیاں ،کولگام ،پلوامہ ،راجپورہ ،زینہ پورہ قصبوں میں بھی دکھائی دیاہے جبکہ گاندربل ،پٹن ۔خانصاحب،بیرواہ ،بارہمولہ ،سوپور ،کپوارہ ،بانڈی پورہ ،حاجن ،نائدکھائی کے میونسپل اداروں کی جانب سے قصبوں سے نکالے جانے والے کوڑاکرکٹ کوجھیل ولراور دوسری آبی پناہ گاہوں کے ارد گردڈالنے کی کارروائیاں انجام د جارہی ے ۔ادھرشہرسری نگر میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جوکوڑا کرکٹ اچھن سعد پورہ میں ڈالاجارہاہے اس سے ٹھکانے لگانے کے لئے ابھی تک اگر چہ باربار صرف دعوے کئے جارہے ہے تاہم عملی اقدامات اٹھانے کی طرف کبھی بھی سنجیدگی کامظاہراہ نہیں کیاگیا۔اچھن سعد پورہ میں ڈالے جانے والی کوڑا کرکٹ کوٹھکانے لگانے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہے تاہم اس کوڑاکرکٹ سے جوبدبو اورعفونت پھیل رہی ہے اس نے شہرخاص کی تین لاکھ سے زیادہ آبادی کا گھروں سے باہر نکلنا تقریباًناممکن بنادیاوادی کشمیرمیںکوڑا کرکٹ کوجدیدٹیکنالوجی کے ذریعے ٹھکانے لگانے کے ضمن میں صرف دعوے کئے جارہے ہے عملی اقدامات اٹھانے کی طرف سنجیدگی کامظاہراہ نہیں کیاجارہاہے یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیرکی بیشترآبی پناہ گاہیں اب دلدل میں تبدیل ہوتی جارہی ہے ناصاف پانی استعمال کرنے سے طرح طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہے اور بلدیاتی اداروں کواگر کوڑاکرکٹ ٹھکانے لگانے کے لئے وسائل دستیاب ہے تو انہیں بروئے کار کیوں نہیں لایاجاتاہے یہ ایک حیران کن عمل ہے اگربلدیاتی اداروں کوکوڑاکرکٹ ڈالنے کے لئے جگہ دستیاب نہیں ہے تو وہ اس بات کا کھلے عام اعتراف کیوں نہیں کررہے ہے کیوں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑکیاجارہاہے جس طرح سے بلدیاتی ادارے غیرسنجیدگی کامظاہراہ کرکے لوگوں زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہے اس کی کہی مثال نہیں مل رہی ہے اور کئی سیو ل سوسائیٹئز سے وبستہ افراد نے اب عدالت عالیہ کادروازہ کھٹکھٹانے کامن بنالیاہے ۔