مینڈھرپونچھ میں سرکاری اراضی کوخالی کرانے کا عمل قابل ستائش

لوگ خود ہی اس زمین کو خالی کریں جو غیر قانونی طور پر قبضے میں لے رکھی ہے :بی جے پی

سرینگر// بی جے پی لیڈر ستیش کمار شرمانے انتظامیہ پونچھ کی سرہانہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ جو سرکاری زمینوں کو وگزر کروارہی ہے یہ بہت اچھا قدم ہے.انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنچال کے ساتھ ساتھ سرحدی سب ڈویزن مینڈھر میں بڑی تعدا د میں سرکاری زمینیں لوگوں کے قبضے میں ہیںجن کو خالی کرانے کا سرکار نے منصوبہ بنایا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے بار بار عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اتفاقاً جن جن لوگوں کے پاس ناجائز طور پر سرکاری زمینیں ہیں وہ اپنی رضامندی کے ساتھ خود ہی خالی کر دیں تاکہ متعلقہ انتظامیہ اور عوام کا آپسی بھائی چارہ بنا رہے۔سی این آئی کے مطابق اگر سرحدی سب ڈویزن مینڈھر کی بات کی جائے تو اس کے اندر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر تقریباً ساٹھ فیصد سے زائد رقبہ ناجائز طور پر لوگوں کے قبضے میں ہے بیشک سرکاری حکم نامے کے مطابق جنگات کے رقبوں پر ناجائز طور پر ہوئی گرداوریوں کو خارج کر دیا گیا ہے لیکن زمینوں کے اوپر ابھی تک انھیں لوگوں کا قبضہ ہے جن لوگوں نے جنگلوں کی کٹائی کرکے سرکار کے جنگلات کے رقبہ کو ناجائز طور پر قبضہ کیاہوا تھا جس کی وجہ سے سب ڈویزن مینڈھر کے اندر تیس فیصد سے زائد ہی جنگلات رہ گئے ہیں۔بی جے پی لیڈر ستیش کمار شرما کا کہنا ہے کہ اگر سرکار کے حکم کے مطابق متعلقہ انتظامیہ سرکاری رقبوں کو خالی کرانے کی مہیم چلا رہی ہے تو سب سے پہلے انتظامیہ کو چاہیے کہ جن لوگوں نے سرکاری دفاتر اور سکولی رقبوں پر ناجائز طور پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے دن بدن سکولوں اور دیگر دفاتروں کی آراضی سکڑتی جا رہی ہے۔انتظامیہ کو چاہیے کہ پہلی فہرست میں نشان دیہی کروا کے ناجائز طور پر ہڑپ کی ہوئی آراضی کو واگزار کرایا جائے اس کے بعد جن جن لوگوں نے سرکار کی زمینوں کو ناجائز طور پر قبضہ کیا ہوا ہے چاہے اس میں غریب ہو یا امیر ہو یکساں سلوک رکھ کے ان کو واگزار کرایا جائے اگر اس طریقہ کار سے انتظامیہ اپنی کاروائی کرتی ہے تو یہاں کی عوام شانہ بشانہ سرکار اور انتظامیہ کے ساتھ ہے۔انھوں نے کہا کہ ناجائز طور پر تجاوزات کی وجہ سے مینڈھر کے اندر کوئی ایسی جگہ نہ ہے کہ جہاں پہ سپورٹس سٹیڈیم یا دیگر کوئی چیز تعمیر ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ ناجائز طور پر سرکاری زمینوں کو واگزار کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اس سے کافی حد تک سرکار اور انتظامیہ کو فائدہ مل سکتا ہے کیونکہ سرکار کی جانب سے جب کوئی عمارت منظور ہوتی ہے تو سب ڈویزن مینڈھر کے اندر اس کو بنانے کیلئے اپنی زمین نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں سے خریدنے پڑتی ہے یا اس کے عوض میں ایک ملازم لگاناپڑتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سرحدی سب ڈویزن مینڈھر کے اندر نہ ہی کوئی سپورٹس سٹیڈیم ہے اور قصبہ مینڈھر کی بات کی جائے نہ ہی کوئی بڑی پارک ہے اور نہ ہی کوئی بڑا بس اڈہ ہے جس پہ چھوٹی بڑی گاڑیاں عزت و وقار کے ساتھ لگائی جا سکیں۔سرکاری ناجائز طور پرقابض کی ہوئی سرکاری زمین کی واگزاری سے عوام کو بڑے پیمانے پہ فائدہ ہو گا۔ان کے اندر سرحدی خطہ کی عوام کو سہولیات مہیا کروانے کیلئے دفاتر سپورٹس سٹیڈیم، پارک جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔انھوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ امیر اور غریب عوام کے ساتھ سرکاری زمینوں کو واگزار کرانے کی مہیم چلاتے ہیں تو یہاں کی عوام شانہ بشانہ ان کے ساتھ ہے تاکہ صرف غریب انسان اس کا شکار نہ بن سکیں۔