سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کے مثبت کیسز میں کمی آنے کے بعد نافذالعمل لاک ڈاون میںتقریباً دو ماہ بعدجموں وکشمیر کے 8اضلاع میں کورونا کرفیو ہٹا نے کا اعلان کیا گیا ۔پابندی ہٹانے کے بعد بازاروں میں گہماگہمی اورسڑکوں پردن بھر پرائیویٹ و مسافرگاڑیوں کی نقل وحرکت کافی رہنے سے مختلف مقامات پر بدترین ٹریفک جام ہوا جس سے لوگ پھر گھنٹو ں ہا ان مقامات پر در ماندہ ہوکر رہ گئے ۔ گھروں میں محصور لوگ باہر آئے اور موجودہ صورتحال کا بھی مشاہدہ کیا ۔جبکہ تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں۔ خطہ میںسرکاری اعلان کے بعد دکانیں کھل گئیں اور بازاروں میں رونق لوٹ آئی ۔جبکہ سرکاری وغیر سرکاری دفاتر میں بھی حسب معمول کام کاج کا باضاباطہ آغاز ہوا ۔سڑکوں پر گاڑیوں کا کافی رش تھا کہ پہلے کی طرح جگہ جگہ پر ٹریفک جام دیکھنے کو ملا ۔کریانہ دکانوں اور سبزی و گوشت فروشوں کی دکانوں پر رش بھی تھا اور خریداری بھی تھی لیکن شہرودیہات میں بیشترملبوسات ،فرنشنگ ،ہارڈ وئیر ،کراکری وغیرہ دکانوں پر لوگ آتے دیکھے گئے لیکن خریداری نہ ہونے کے برابر رہی ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلسل لاک ڈاون کے دوران لوگ اقتصادی بدحالی کے شکار ہوئے ہیں اور وہ خرید وفروخت کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔ان حالات میں لوگوں کا جینا مشکل بن گیا ہے ۔جبکہ سرکاری سطح پر لوگوں کو ان مشکلوں سے نکالنے کا کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے ۔برعکس اس کے بنک قسطوں ،ٹیکسزاور چارجز کی بھرمار نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔یہاں کی سیاسی صورتحال بھی ڈاواں ڈھول ہے جبکہ زمینی صورتحال عوام کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہے ۔کیونکہ گذشتہ دو تین برسوں کے سنگین حالات کے نتیجے میں یہاں کے لوگ سیاسی ،سماجی اور اقتصادی طور کافی پسماندہ ہوئے ہیں ۔ان حالات کے بیچ کے پی ایس نے کئی لوگوں ساتھ بات کی تو انہوں نے کہا کہ سیاسی انتشار اور اقتصادی بدحالی نے کوروناوائرس سے بھی زیادہ خطرناک حالات یہاں پیدا کئے ہیں ۔کیونکہ ان حالات کے باعث لوگ زہنی تنائو کے شکار ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بازاروں میں مہنگائی اورگراں بازار ی منہ چڑھ کربول رہی ہے جبکہ یہاں کے لوگوں کے پاس سستے داموں خریداری کرنے کی سکت باقی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کا پھیلائو بدستور ہے اگر چہ یومیہ مثبت کیسز میں کمی واقع ہورہی ہے لیکن وائرس ابھی یہاں موجود ہے اور پانچ سو زیادہ کیسز روزانہ سامنے آئے ہیں جبکہ ایک درجن اور اسے زیادہ مرنے والوں کی تعداد جاری ہے۔ان حالات میں لاک ڈاون میں ڈھیل دینا اگر چہ مجبوری تھی تاہم احتیاط نہ برتنا بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ایک کورونا مریض ہونے تک ایس او پیز کی پاسداری لازمی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ رتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردنی ،تعمیراتی میٹرئیل ودیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے ،ٹیکسز اور بجلی فیس ،بنک میں شرح سود ودیگر چارجز میں کمی کرنے اور کورونا سے بچنے کیلئے جاری شدہ ایس او پیز پر عمل کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیںاور تعلیمی اداروں کے بارے میں بھی سوچ وچار کیا جائے ۔ تاکہ لوگوں کی اقتصادی ،سیاسی اور سماجی حالت ایک بار پھر پٹری پر آسکے گئی اور بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کی راہ بھی نکلے گی ۔










