دلی پربھروسہ نہیں کیاجاسکتا سرکار کے سامنے اپنے مطالبات ٹھوس بنیادوں پررکھے /قمرعلی آخون

سرینگر//جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ مصائب ومشکلات میں مبتلاہونے کاعندیہ دیتے ہوئے کرگل ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیٰڈر نے کہاکہ نئی دہلی نے ماضٰی میں بھی لداخ کے لوگوںکے ساتھ وعدہ وفا نہ کیااور مستقبل میں بھی نئی دہلی سے زیادہ امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔مرکز کے ساتھ بات چیت کے دوران ان پریہ واضح کردیاگیا کہ لداخ کے تعلیم یافتہ بے روز گاروںکوروز گار اور لداخ میں کسی غیرریاستی کوزمین خریدنے کی آیئنی ضمانت دی جائے اسمبلی کاقیام انتہاء لازمی ہے تاکہ لداخ کے لوگ اپنے مسائل خودحل کرسکے ۔اے پی آ ئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سینئر لٰیڈر او سابق وزیرقمر علی آخون نے نئی دہلی میں ایک نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہاکہ جموں وکشمیرکاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد مرکزی زیرانتظام علاقے لداخ میں صائب ومشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہواہے مرکزی حکومت کی جانب سے صرف خواب دکھائے گئے تاہم ان خابوں کی تعبیر کبھی بھی سامنے نہیں آ ئی ۔سابق وزیر ے کہاکہ جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد لداخ کے لوگوں کوامید پیدا ہوئی تھی کہ مرکزی حکومت اب ان کے مصائب ومشکلات کاازلہ کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پراقدامات اٹھائے گی تاہم ایسا نہیں ہوا پہلے بھی نئی دہلی کی جانب سے وعدے کئے گئے اور پھران وعدوں کونہ توماضی میں نبھایاگیااور نہ ہی مستقبل میں ان وعدوں کوعملی جامہ پہنانے کی کوئی صورت نظرآرہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ لداخ کومرکزی زیرانتظام علاقہ قراردینے کے بعد لوگوں کے اختیارات چھن لئے گئے بیروکریسی کابول بالاہے کہنے اور کرنے میں کافی فرق ہے لوگ انتشار کاشکار ہوچکے ہیں کرگلڈیموکریٹک الائنس کے وفدکی نئی دہلی میں امور داخلہ کے وزرمملکت جئے کشن ریڈی کے ساتھ ملاقات کوخوشگوارقراردیتے ہوئے سابق وزیر نے کہاکہ اس ملاقات کے بعدامیدیں قائم کرناٹھیک نہیں ہے تاہم کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے اپنا نقطہ نگاہ مرکزی حکومت کے سامنے رکھاہے کہ لداخ کے لوگوں کو روز گار اور زمین کے بارے میں آی ئنی ضمانت فراہم کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ لداخ میں اسمبلی کاقیام ناگزیر ہے تاکہ لوگ اپنے مسائل خود حل کرسکے ۔جموں وکشمیرکاخصوصی درجہ واپس لینے مرکزی حکومت کی اس کارروائی کوسابق وزیرنے غیرقانونی غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ یہ مسئلہ فی الحال عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ہے اورمعلوم نہیں کہ مسئلے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کب اپنافیصلہ صادرکریگی تب تک لداخ کے لوگوں کواپنے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل ضروراپنانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ لداخ کے لوگ اپنی پرامن جدوجہد ہروقت جاری رکھے گے تاکہ لوگوں کوسیاسی سماجی ا ور معاشی طور پرمزید مشکلوں کاسامناناکرنا پڑے۔