سرینگر//وادی کشمیر کے اطراف واکناف میں لوگوں کوبنیادی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میںسرکار کی جانب سے جودعوے اوروعدے کئے جارہے ہے وہ بے بنیاد ارو کھوکھلے ثابت ہورہے ہے پچھلے تین برسوں کے دوران پینے کاپانی فراہم کرنے بجلی دستیاب رکھنے سڑکوںکی حالت بہتربنانے طبعی سہولیات بہم پہنچانے اور تعلیم کے میعار کوبلندیوں تک لے جانے میں بجٹ کے دوران جورقومات فراہم کی گئی ہے اگروہ زمینی سطح پرخرچ ہوئی ہے تو پھر بھی بنیادی سہولیت کے حوالے سے لوگوں کومشکلات کاسامنا کیوں کرناپڑتاہے۔جموں کشمیر میں بالعموم اوروادی کشمیرمیں بالخصوص لوگوں کوبنیادی سہولیات کے حوالے سے گوناں گوں مشکلات سے گزرنا پڑرہاہے سال 19کے دوران جموں وکشمیر میں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص لوگوں کوبنیادی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں سرکار نے دس ہزار کروڑ روپے مختلف اداروں کو فراہم کئے تاکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی کایقینی بنایاجائے ۔سال 2020میں بھی سرکار نے اولین ترجیحی بنیادی ڈھانچے کوتعمیر کرنے لوگوں کوبہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہزاروں کروڑ روپے اداروں کوبجٹ کی صورت میں فراہم کئے سال 2021کے اولین میں جموں وکشمیرکے مرکزی زیرانتظام علاقے کے لئے مرکزی حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کااعلان کیاتاکہ سال 2021-22 بجٹ کوخرچ کرکے جموں وکشمیرکے لوگوں کودر پیش مشکلات سے چھٹکارا دلایاجائے مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیرکے لئے بجٹ کومنظوری ملنے کے بعد لیفٹننٹ گورنر نے بجٹ کا50%واگزار کرنے کااعلان کیااور لوگوں کویہ یقین دلایا کہ اب انہیںکسی بھی طرح کی پریشانی کاسامنانہیں کرنا پڑیگا تین ماہ گزرنے کے بعد لیفٹننٹ گورنرنے 12ہزار کروڑ روپے ایپکس بجٹ واگزارکرنے کااعلان کیاتمام اضلاع کو رقومات فراہم کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ تعمیراتی پروجیکٹوں کووقت پرمکمل کیاجائے اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے لوگوں کواب مشکلوں کاسامناناکرنا پڑے ۔ایک ماہ کاعرصہ ہوگیا سرکار کی جانب سے تمام اضلاع کورقومات واگزر کئے ہوئے تاہم ابھی صورتحال جوں کی توں بنی ہوئی ہے شدت کی اس گرمی میں لوگوں کوپینے کاصاف پانی دستیاب نہیں لوڈشڈنگ سے نجات دلانے کے لئے سرکار کی جانب سے اقدمات نہیں اٹھائے جارہے ہے سڑکوںکی خستہ حالت بدستور لوگوں کے لئے عذاب بنی ہوئی ہے طبعی سہولیات کے فقدان کوجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیںلائی جارہی ہے تعلیمی نظام کوبلدیوں تک لے جانے ے ضمن میںزبانی جمع خرچ کے سواور کچھ بھی نہیں کیاجارہاہے ۔ماہرین کے مطابق پچھلے تین برسوں سے سرکار نے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے جورقومات اداروں کوبہم پہنچائی اگر وہ زمینی سطح پرخرچ کی گئی ہے تو پھرلوگوں کوبنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلوں کوسامناکیوں کرنا پڑتاہے۔ ماہرین کے سرکار سے مطالبہ کیاکہ پچھلے تین برسوں کی کارکردگی کومنظرعام پر لانے کے اقدامات اٹھائے جائے کہ اداروںنے کس حدتک زمہ داریاں پوری کرلی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایساکرنے سے نہ صرف لوگوں کوجانکاری فراہم ہوگی بلکہ ادروں کوجواب دہ بنانے کے لئے بھی سرکار کواقدامات اٹھانے کاموقع ملے گا۔










