سرینگر//جموں وکشمیر کے تہذیب و تمدن ،ثقافت اور حیاداری کی مثالی دنیا کے بیشتر ممالک دی جاتی تھیں لیکن اس خطہ بالخصوص وادی میں بڑی تیزی سے معاشرتی برائیاں پنپ رہی ہیں ۔جبکہ منشیات کا رجحان آئے روز بڑھتا جارہا ہے جو قابل تشویش عمل ہے ۔وادی کشمیر کے شہر ودیہات میں برائیوں کے اڈے بنائے گئے اور منشیات کی لت میں نوجوان طبقہ بڑی تیزی سے مبتلا ء ہورہا ہے ۔منشیات کے رجحان کو کم کرنے کیلئے اگرچہ پولیس ہر جگہ پر مہم جاری رکھی ہوئی ہے تاہم اب تک منشیات میں ملوث شخص کو ایسی سزا نہیں دی گئی ہے جس سے وہ تنبیہ حاصل کریں جس کے نتیجے میں منشیات کی وباء پنپ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اس بُری لت میں مبتلاہورہے ہیں ۔جبکہ کالجوں،اسکولوں یا دوسرے اداروں میں تعلیم وتربیت حاصل کررہے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بازاروں ،گلی کوچوں ،ہوٹلوں اور پارکوں کی زینت بنے ہوئے ہیں اور ان مقامات میں ایسی بے حیائی اپنائی جارہی ہے کہ سماج کے ہر کسی حساس شخص کے رونگھٹے کھڑا ہوجاتے ہیں ۔ کشمیر پریس سروس کو شہر ودیہات کے مختلف علاقوں سے آئے روز شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بے حیائی اور منشیات کے اڈے قائم کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے سرکاری سطح پر اس کا تدارک کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ شہر سرینگر کے ایک بے باک نوجوان نے نوگام ہائی وے سرینگر اور اس کے مضافات میں بے حیائی کی ایک نئی ٹرینڈ کے حوالے اپنے فیس بُک اکاونٹ پر اس واقع کو وائرل کیا ۔جس میں مذکورہ نوجوان اس بات کا انکشاف کررہا ہے کہ بے حیائی اور بے راہ روی کو فروغ دینے کیلئے متذکرہ مقام پربے حیائی کی ایک نئی ٹرینڈ شروع کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مداخلت کے بعد ان کی گاڑی کے شیشے چکناچور کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اچھی طرح یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ یہ باہر لڑکیوں کو لایا گیا یا ٹرانسجینڈر ہیں لیکن ایسی بے راہ روی کا سماں دکھا جارہا ہے جس سے باغیرت انسان دلبرداشت ہوجاتے ہیں کیونکہ وہاں پر ان کی حرکات وسکنات عجیب وغریب ہیں جو لوگوں کوبے حیائی کی طرف رغبت دلانے میں انوکھا رول ادا کررہے ہیں ۔مذکورہ نوجوان کا کہنا ہے کہ ان کا ذاتی نقصان کیا ہوا اس کی فکر لوگ نہ کریں بلکہ اس بات کی فکر کریں کہ اس طرح کی ٹرینڈ ہمارے معاشرے کو مزید تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا سبب نہ بنے ۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے حیائی کو فروغ دینے والی اس ٹرینڈ کو روکنے میں انفرادی واجتماعی طور اپنا رول ادا کریں ۔بصورت دیگر اس سیلاب کو روکناپھر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ثابت ہوگا ۔ اسی طرح سے شہر سرینگر کے دی بنڈ پر واقع پارکوں میں کوچنگ سنٹر وں یا گھروں سے آئے ہوئے نوجوان جوڑے دربہ دری کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں جس سے مذکورہ علاقہ کے لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی ان حرکات کا اثرات ان بچوں پر مرتب ہورہے ہیں جو اس سے دور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بے راہ روی کی حدیں اس طرح پارکرچکی ہیں کہ نوجوانوں کے جوڑے ایک دوسرے کے روبرو ہوتے ہیں اور ان کویہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ وہاں گذرنے والے افراد ان کی حرکات کا مزاق اٹھاتے ہیں لیکن وہ جوانی کی اس وحشی پن کے دوران شرم محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بے راہ روی کی روکتھام کیلئے فوری طور اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ہمارے سماج کی نئی نسل اس سے محفوظ رہ سکے ۔ادھر ضلع بارہمولہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں منشیات کے اڈے قائم ہیں اورنشہ آور ادویات کے استعمال کا رجحان بڑھتا ہے اور بڑی تیزی سے نوجوان اس بُری لت میں مبتلا ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولیس منشیات کے خاتمہ کے حوالے سے مہم جاری رکھی ہوئی ہے لیکن ان ملوث افراد کو وہ سزا نہیں ملتی ہے جس سے دوسرے نوجوان سبق حاصل کرتے اور اس دھندے میں مبتلا ہونے کی کوئی جرات نہیں کرتا ۔اس سلسلے میں حساس لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں پنپ رہی بے راہ روی اور منشیات کے بڑھتے رجحان کے انسداد کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ ہمارے سماج کے نوجوان منشیات اور بے حیائی کی لت میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہ سکیں گے اور ہمارا معاشرہ تباہی سے بچ جائے گا ۔انہوں نے عوام سے بھی کہا کہ انفرادی اور اجتماعی طور تدارک کیلئے فوری اقدام اٹھائے جائیں ۔










