سال1990تا2019جموں وکشمیرمیں خودکشی کے 5943واقعات رپورٹ/ NCRB
سری نگر//جموں وکشمیر بالخصوص کشمیروادی میں خودکشی کے واقعات یارُجحان نے خطرے کی گھنٹی کافی پہلے بجادی تھی لیکن والدین ،مدرسین اورماہرین بروقت اقدامات روبہ عمل لانے میں ناکام رہے ۔جے کے این ایس کے مطابق سال2019کی سالانہ رپورٹ میں نیشنل کرائم پورٹ بیورئو نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ سال2017میں 287،سال2018میں 330اورسال2019میں 284خودکشی کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔رپورٹ میں یہ ہیبت ناک انکشاف بھی کیاگیاہے کہ جموں وکشمیرمیں سال1990کے بعدتین دہائیوں میں خودکشی کے 6000واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ماہ فروری2021میں جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں نیشنل کرائم پورٹ بیورئو NCRBنے کہاکہ سال1990سے2019تک جموں وکشمیر میں خودکشی کے 5943واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔طبی ونفسیاتی ماہرین خودکشی کے واقعات اوراس رُجحان کے درپردہ مختلف نوعیت کی وجوہات اورمحرکات کوکارفرمابتاتے ہیں ۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے انسٹی چیوٹ برائے دماغی صحت وعصبی سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اورماہرنفسیات ڈاکٹر یاسر احمدراتھر نے جموں وکشمیربالخصوص وادی میں خودکشی کے واقعات میں اچانک اضافے کوباعث تشویش قرار دیاہے۔ڈاکٹر یاسرراتھر کہتے ہیں کہ اگر ہم کچھ دہائیاں پیچھے چلیں یادیکھیں تو ہم پاتے ہیں کہ کشمیرمیں خودکشی کی اوسط زیرئو اعشاریہ پانچ فی لاکھ نفوس تھی ،جوکہ کویت جیسے ملک کی خودکشی اوسط0.1فی لاکھ نفوس کے برابر تھی ،اوردنیا بھرمیں خودکشی کا سب سے کم تناسب تھا ۔ماہرنفسیات ڈاکٹر یاسر راتھر آگے کہتے ہیں کہ کشمیرکے حالات میں آئی تبدیلی جیسے شورش اورمسلح تصادم آرائی کے واقعات نے یہاں دماغی صحت کے مسائل کوجنم دیا،کیونکہ لوگ ذہنی تنائو کے شکار ہونے لگے ،اورخودکشی کاگراف وتناسب بڑھنے لگا۔ڈاکٹر یاسرراتھر نے ایک غیرسرکاری تنظیم MSFکی ایک رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ کشمیرمیں 45فیصدآبادی نفسیاتی پریشانی میں مبتلاء ہے جبکہ بقول موصوف Action -Acidنامی ایک اورریسرچ تحقیقی کی ایک اورپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ کشمیرکی آبادی میں خودکشی کی شرح تناسب ایک اعشاریہ آٹھ یعنی1.8فی لاکھ نفوس ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ خودکوعمداً نقصان پہنچانے یا خودکشی کرکے زندگی کاخاتمہ کردینے کارُجحان نوعمر اورنوجوانوں میں ہونا خطرے کی علامت ہے ۔ماہرنفسیات ڈاکٹر یاسرراتھرکہتے ہیں کہ افسردگی ، اضطراب ، بچوں کیساتھ جنسی زیادتی ، زبردست شخصیت اورمنشیات کی لت خودکشیوں کے بنیادی عوامل ہیں جبکہ نفسیاتی بیماری یا خود کشی کی خاندانی تاریخ بھی اہم عوامل ثابت ہوسکتی ہے۔وہ موجودہ صورتحال میں کودکشی کے واقعات کاخلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی معاملے پرحدسے زیادہ جذباتی ہوجانا،غیریقینی صورتحال ،معاشی ومالی بدحالی ،ملازمتوں میں عدم استحکام ،مایوسی وافسردگی اوراضطراب بھی خودکشی کے رُجحان کے بڑھ جانے کی وجوہات ہیں ۔










