گائڈ لائن پرعمل کرانے کے لئے سرکار اپنے اختیارات کااستعمال کرے /طبعی ماہرین

گائڈ لائن پرعمل کرانے کے لئے سرکار اپنے اختیارات کااستعمال کرے /طبعی ماہرین

سرینگر/اے پی آ ئی//وبائی بیماری کے تیور کم ہونے اور تھوڑی سی راحت ملنے کے ساتھ ہی اطراف واکناف میں لاپرواہی غیرسنجیدگی کاسلسلہ پھرسے شروع ہوگیاہے ویکننڈ لاک ڈاون بے معنیٰ ہوکررہ گیاہے پولیس جپسی نمودار ہونے کے ساتھ ہی دوکانوں کے شٹر توگر جاتے ہے تاہم پولیس کے نکلنے کے ساتھ ہی واضح کی گئی گائڈ لائن کوپاؤں تلے روندھا جارہاہے جس پرماہرین نے تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ باربارلوگوں سے کہاجاتاہے کہ وبائی بیماری کی چین ٹوٹی نہیں ہے یہ بیماری اب بھی جان لیوا ہئے تاہم لوگ وبائی بیماری کوسنجیدگی سے نہیں لے رہے ہے اور انتظامیہ بھی گائڈلائن پرعمل کرانے کے لئے اقدامات نہیں اٹھارہی ہے آنے والے دنوں کے دوران اسکے نتائج کیانکلے گے اور ذمہ داری کس پرڈالی جائیگی یہ بہت بڑاسوال ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق طبعی ماہرین کے مطابق دنیابھر طرح کشمیرکے اطراف واکناف میں بھی کروناوائرس کی وبائی بیماری ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ بیماری اب بھی موجود ہے 5سوسے زیادہ کرونا میں مثبت پائے جاتے ہے اور مرنے والوں کی تعداد 10سے زیادہ ہوا کرتی ہے ۔ماہرین کے مطابق گائڈ لائن پرعمل کرنے کے لئے ہمیشہ زوردیاجارہاہے تاہم مثبت ٹیسٹ اورمرنے والوں کی تعداد میں کمی آنے کے بعد وادی کے اطراف وکناف میں لوگوں نے کر کروناوائرس کی وبائی بیماری کوپھر سے ہلکے میں لیناشروع کردیاہے تفریحی پارکوں کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات تعزیتی مجالس کے دوران جہاں گائڈلائن کوپاؤں تلے روندھا جارہاہے وہی سرکاری دفتروں کے علاوہ بازاروں کی صورتحال بھی بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔سرکار نے ہفتے میں دودن مکمل لاک ڈاون کاپہلے ہی اعلان کیاہے ضروری خدمات انجام دینے کے بغیر کسی کوبھی گھروں سے باہرآنے کی اجازت نہیں ہے تاہم گرمائی دارالخلافہ سرینگر سمیت بڑے شہروں قصبوں میں پرائیویٹ گاڑیوں کوسیلاب سڑکوں پراُمڑ پڑااور کئی قصبوں شہروں میں ٹریفک جا م کے باعث مسافروں کودرماندہ ہونے پربھی درماندہ رہنا پڑا۔گائڈلائن کے مطابق سماجی دوری قائم کرنا لازی ہے اورو ماسک ہر ایک شخص کے لئے ضروری ہے ،جبکہ وادی کے اطراف وکناف میں اب لوگوں نے ماسک پہننے کی طرف تو جہ دیناچھوڑ دیاہے سماجی دوری کوتوپہلے ہی ختم کیاگیاہے ۔ْطبعی ماہرین کے مطابق کروناوائرس کی پہلی لہرجب پھوٹ پڑی اس وقت بھی آخرپرلوگوں نے غیرسنجیدگی کامظاہراہ کیااورو دوسری لہرنے تیورسخت کر دیئے اور اس بات کے امکانات ظاہرکئے جارہے ہے کہ ایک اور لہرآنے والی ہے جو انتہائی خطرناک ہوگی اوراس لہرسے بچنے کے لئے لوگوں کواحتیاط کرنا لازمی ہے لوگ اپنے گھروں سے باہرآئے کام کرے بغیر کام کے لوگ بھوکے مرجائے گے لیکن کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کابھی خیال رکھے کہ جب زندگی ہے تو کام بھی ہے اگرزندگی نہیں توکام کیسے ہو سکتاہے ۔طبعی ماہرین نے سرکار پرزوردیاکہ وہ قانون نافذکرنے والے ادارے کومتحرک کرے جس بڑے پیمانے پرکروناوائرس وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے گائڈلائن واضح کی گئی ہے اسکی کھلے عام دھجیاں اُڑ رہی ہے اوراگریہ سلسلہ مزیدکئی دنوں تک جاری رہا اس ے مثبت نتائج بر آمد نہیں ہونگے لوگ اس بیماری کی لپیٹ میں آسکتے ہے اور ان کی جانوں کوخطرہ بھی لاحق ہو گا۔انتظامہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائے جو اپنی اوردوسری کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کاروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔