سرینگر/اے پی آ ئی//بھارت پاکستان کے مابین برف پگھلنے اور مستقبل قریب میں سرکاری سطح پربات چیت شروع ہونے کے اس وقت امکانات پیدا ہوگئے جب شنگہائی کانفرنس کے دوران پاک بھارت قومی سلامتی مشیروں کے درمیان ملاقات ہونے کامعاملہ طشت ازبام ہوا۔سفارتی ذررائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ23-24 جون کوتاجسکستان کی راجدھانی میں شنگہا ئی کانفرنس ہونے جاری جسکے دوران پاک بھارت قومی سلامتی مشیروں کے درمیاں حاشئے پرملاقات منعقد ہونے جارہی ہے جسکے دوران بھارت پاکستان کے درمیان تعلقات کوبہتربنانے رُکی پڑی بات چیت کو بہتربنانے تجارت کوفروغ دینے کے معاملے پر تادلہ خیال کیاجائیگا ۔اے پی آئی کے مطابق برصغیرکے دو بڑے نیوکلئیر طاقتوں بھارت پاکستان کے مابین کشیدگی تناؤ کا ماحول کم ہونے کے اس وقت اشارے مل گئے جب بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اوران کے پاکستانی ہم منصب کے مابین تاجکستان کے شہر دشمبے میں ملاقات ہونے کی تصدیق ہوگئی ۔23-24جون کوتاجکستان میں شنگہائی کانفرنس منعقدہونے جارہی ہے شنگہائی کانفرنس میں تاجکستان روس چین بھارت اور پاکستان شامل ہے اس کانفرنس کے حاشے پربھارت اور قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین ملاقات انتہائی اہمیت کے حامل ہے ۔سفارتی ذررائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ 23-24جون کوبھارت پاکستان قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین ملاقات ہونے جارہی ہے جسم میںپاک بھارت تعلقات رُکی پڑی بات چیت کودوبارہ شروع کرانے تجارت کو شروع کرانے جنگبندی معاہدے پرمن وعن عمل جاری رکھنے کے علاوہ دوسرے معاملات پر تبادلہ خیال کیاجائیگا ۔سفارتی ذررائع نے بھارت پاکستان قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات کواہمیت کاحامل قراردیتے ہوئے کہاکہ اس سے خطے میں تناؤ کشیدگی کاجوماحول بناہوا ہے اس سے مزید کم ہونے کاموقع ملے گا۔سفارتی ذررائع کے مطابق بھارت پاکستان کونزدیک لانے کے لئے جہاں ٹریک ٹو ڈپلومیسی شدو مد سے جاری ہے وہی کئی ممالک کی جانب سے بھارت اور پاکستان کونزدیک لانے میں اہم رول اداکیاجارہاہے ۔گزشتہ دنوں بھارت کے وزیرخارجہ ڈاکٹرایس جے شنکر نے بھی قطرکے اپنے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کوبہتربنانے کاعندیہ دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے اہل ہے اوربھارت نے باربارپاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے تاہم پاکستان نے کبھی بھی بھارت کی جانب سے پیشک ی گئی تجویزوں کامثبت جواب نہیں دے دیا۔ادھرسیاسی تجزیہ کاروں نے بھی اجیت ڈوبھال اور ان کے پاکستانی ہم منصب کے مابین ملاقات کواہمیت کاحامل قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین اگست کے وسط سے سرکاری سطح پرحالات بہتررہنے کی صورت میں بات چیت کے امکانات موجود ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں رونماء ہونے جارہی ہئے اور ان تبدیلیوں کے آثار پہلے ہی نمایاں ہوگئے ہے پچھلے تین ماہ سے جہاں بھارت پاکستان کے مابین حد متارکہ پرجنگبندی معاہدے پرمن وعن عمل ہورہی ہے وہی اب ٹریک ٹوڈپلومیسی بیرون ممالک کے بجائے بھارت اور پاکستان میں ہوگی تاکہ ٹریک ٹوڈپلومیسی کے دوران دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کواٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیاجاسکے ۔










