خوراک بکھیرنے سے گریز کیا جائے/ درخشاں اندرابی
سرینگر/یو این ایس / جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے خانقاہوں کے احاطے میں کھانے کی تقسیم سے متعلق اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خانقاہوں میں روایتی کھانے، خصوصاً تہری، لانے اور تقسیم کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، تاہم اسے منظم طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ مقدس مقامات کا تقدس برقرار رہے۔درخشاں اندرابی نے کہا کہ تہری کشمیری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے اور لوگ اسے خانقاہوں میں لا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے حالیہ بیان کا مقصد تہری یا کسی دوسرے روایتی کھانے کی تقسیم پر پابندی عائد کرنا نہیں تھا بلکہ لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا تھا کہ کھانا ایک منظم طریقے سے تقسیم کیا جائے۔ درخشاں اندرابی نے کہا، ’’لوگ خانقاہوں میں تہری لا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ میرے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتی تھی کہ ہم نے تہری کی تقسیم کے لیے مخصوص شیڈ تعمیر کیے ہیں، جہاں لوگوں کو تہری تقسیم کرنی چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کے احاطے میں کھانا بکھیرنا مقدس مقامات کے احترام کے منافی ہے۔ ان کے مطابق کھانے کی غیر منظم تقسیم کے نتیجے میں خانقاہوں کے احاطے میں گندگی پھیلتی ہے، جس سے ان مقدس مقامات کی صفائی اور تقدس متاثر ہوتا ہے۔درخشاں اندرابی نے کہا کہ وقف بورڈ نے خانقاہوں کی حالت بہتر بنانے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے کافی محنت کی ہے۔ ایسے میں لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان مقدس مقامات کی صفائی کا خیال رکھیں اور کھانا تقسیم کرتے وقت احاطے میں گندگی نہ پھیلائیں۔انہوں نے کہا کہ خانقاہوں میں تہری اور دیگر روایتی کھانوں کی تقسیم ایک دیرینہ ثقافتی روایت ہے، جسے روکا نہیں جا رہا، تاہم اس روایت کو مناسب نظم و ضبط کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو خانقاہوں کی صفائی اور تقدس برقرار رکھنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مقدس مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی صورت میں وہاں گندگی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔










