بدعنوانی،ذات پات اور خاندانی سیاست سے’ کارکردگی کی سیاست ‘کی طرف منتقل کیا
سرینگر//یواین ایس/ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے بدعنوانی، ذات پات اور خاندانی سیاست سے نکل کر ’’کارکردگی کی سیاست‘‘ کے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ 2014 سے قبل بھارتی سیاست کو بدعنوانی، ذات پات اور خاندانی سیاست جیسے مسائل کا سامنا تھا، تاہم 2014 سے 2026 کے دوران ملک نے ان مسائل سے آگے بڑھ کر کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کی طرف رخ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو پالیسیوں کے تعطل، مخلوط حکومت کی مجبوریوں اور فیصلہ سازی میں تاخیر سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔امیت شاہ نے اس موقع پر ’’سیوا سنکلپ ابھیان‘‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ مہم 17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک جاری رہے گی اور اس کا مقصد عوام کی شرکت کے ذریعے 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کا نعرہ ’’جن سیوا ہی پربھو سیوا‘‘ ہے، یعنی عوام کی خدمت ہی خدا کی خدمت ہے۔ ان کے مطابق اس مہم کے ذریعے لوگوں کو ملک کی ترقی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی ترغیب دی جائے گی۔امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی حکمرانی کے دوران حکومت کی توجہ ترقی، عوامی خدمات اور کارکردگی پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی دور میں حکومت کی کارکردگی کو عوام کے سامنے جواب دہی اور جائزے کے اہم پیمانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ’’سیوا سنکلپ ابھیان‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ اور گجرات سے لے کر مرکزی حکومت تک ان کے طویل سیاسی سفر کے اہم مراحل کی مناسبت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ ملک کو 2047 تک ترقی یافتہ بھارت بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے عوامی خدمت اور ملک کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔واضح رہے کہ امیت شاہ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ مودی حکومت نے ملک میں بدعنوانی، ذات پات، خوشامد اور خاندانی سیاست کے رجحان کو ختم کرکے ’’کارکردگی کی سیاست‘‘ کو فروغ دیا ہے۔










