ایف ایس ایس اے آئی کی پیکٹ پر لیبلنگ مہم کی حمایت
سرینگر//ٹی ای این / پیک شدہ غذائی اشیا تیار کرنے والی معروف کمپنی اورکلا انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجے شرما نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے پیک شدہ غذائی مصنوعات پر سامنے کی جانب غذائی معلومات درج کرنے کی مجوزہ تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو ان اشیا کی غذائی تفصیلات جاننے کا مکمل حق حاصل ہے جو وہ خریدتے اور استعمال کرتے ہیں۔سنجے شرما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صارفین میں غذائیت اور صحت سے متعلق شعور میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے انہیں مصنوعات کے بارے میں مناسب اور واضح معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے لیے بہتر انتخاب کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ غذائی مصنوعات کے پیکٹ پر سامنے کی جانب لیبل لگانے کے معاملے میں صنعت، ایف ایس ایس اے آئی کے مقصد کے ساتھ پوری طرح متفق ہے۔ ان کے مطابق صارفین کے علم میں اضافے کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ انہیں مصنوعات میں موجود غذائی اجزا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں۔سنجے شرما نے کہا کہ اس معاملے میں اصل اختلاف لیبلنگ کے اصول پر نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار اور عملی نفاذ کے انداز پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعت نے اس سلسلے میں ایف ایس ایس اے آئی کے ساتھ متعدد مشاورت اور تجاویز پیش کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر غذائی صنعت اس اقدام کی حمایت کرتی ہے، تاہم مجوزہ لیبل کس شکل میں ہو اور اسے کس طرح نافذ کیا جائے، اس پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اس پورے عمل کے لیے تیار ہے، اصل سوال یہ ہے کہ لیبل کی نوعیت کیا ہو اور اسے عملی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے۔جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے ایف ایس ایس اے آئی سے پیک شدہ غذائی اشیا پر سامنے کی جانب غذائی لیبلنگ کے مجوزہ مرحلہ وار نفاذ کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی تھی۔ مجوزہ لیبل میں چینی، نمک، چکنائی اور صحت کے لیے تشویش کا باعث بننے والے دیگر غذائی اجزا کی مقدار سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی تجویز ہے۔اورکلا انڈیا کے سربراہ نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اور ایف ایس ایس اے آئی اپنی سفارشات عدالت کے سامنے پیش کرچکی ہے، اس لیے وہ عدالت عظمیٰ کے حتمی فیصلے کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے تاہم زور دیا کہ اس نوعیت کے معاملے میں ایف ایس ایس اے آئی کے معمول کے قانونی اور ضابطہ جاتی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پہلے مجوزہ ضوابط کا مسودہ جاری کیا جائے، اس کے بعد صنعت، صارفین کی تنظیموں، متعلقہ فریقوں اور دیگر اداروں سے مشاورت کی جائے اور عالمی تجارتی تنظیم سمیت متعلقہ اداروں کے تقاضے پورے کرنے کے بعد اسے باقاعدہ قانون یا ضابطے کی شکل میں نافذ کیا جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے میں مقررہ ضابطہ جاتی عمل پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا۔ایف ایس ایس اے آئی کی مجوزہ پیکٹ لیبلنگ کا مقصد صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ کسی پیک شدہ غذائی مصنوعات میں چینی، نمک اور چکنائی کی مقدار کتنی ہے، تاکہ وہ اپنی صحت اور غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر انتخاب کرسکیں۔اورکلا انڈیا ناروے کے صنعتی گروپ اورکلا اے ایس اے کا حصہ ہے اور بھارت میں ایم ٹی آر، رسوئی میجک اور ایسٹرن جیسے معروف برانڈز کی مالک ہے۔ کمپنی تیار کرنے کے لیے آسان اور فوری تیار ہونے والی غذائی اشیا، فوری استعمال کی غذائیں، سویاں اور مختلف اقسام کے مصالحہ جات بھی پیش کرتی ہے۔










