power

’ ٹائم آف ڈے‘ بجلی ٹیرف کے نفاذ پر ابہاہم

کے سی سی آئی نے عوامی بیداری اور وضاحت کا مطالبہ کیا

سرینگر//ٹی ای این / کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے جموں و کشمیر میں ٹائم آف ڈے یعنی وقت کے حساب سے بجلی کے نئے ٹیرف کے نفاذ کے حوالے سے صارفین میں وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کرنے اور اس نظام سے متعلق وضاحت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے یکم ستمبر 2026 سے ایسے بجلی صارفین کے لیے ٹائم آف ڈے ٹیرف نافذ کیا ہے، جن کا منظور شدہ لوڈ 10 کلوواٹ سے زیادہ ہے۔ زرعی صارفین کو اس نظام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔نئے نظام کے تحت صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک شمسی اوقات میں استعمال ہونے والی بجلی پر صارفین کو 20 فیصد رعایت دی جائے گی، جبکہ مقررہ زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی استعمال کرنے پر اضافی چارج وصول کیا جائے گا۔کے سی سی آئی نے کہا کہ اگرچہ اس نے پہلے ٹائم آف ڈے ٹیرف کے نفاذ کی مخالفت کی تھی، تاہم اب اس کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ متاثرہ صارفین کو نئے نظام اور اس کے مالی اثرات کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کیے بغیر اسے نافذ کردیا گیا ہے۔چیمبر نے کہا کہ خاص طور پر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے خود جے ای آر سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ٹائم آف ڈے نظام نافذ نہیں کرنا چاہتی، اس کے باوجود یہ نظام نافذ کردیا گیا۔ کے سی سی آئی نے اس حوالے سے وضاحت طلب کی ہے کہ یہ فیصلہ کن حالات میں کیا گیا۔چیمبر نے کے پی ڈی سی ایل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم شروع کرے۔ اس مہم کے ذریعے صارفین کو بجلی کے مختلف اوقات، رعایت، اضافی چارجز، اس نظام کے دائرے میں آنے والے صارفین اور بل تیار کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔کے سی سی آئی نے ان صارفین کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی ہے جن کے پاس پرانے میٹر نصب ہیں۔ چیمبر کے مطابق ایسے میٹروں کو ٹائم آف ڈے نظام کے مطابق ترتیب دینے میں تکنیکی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، اس لیے یہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ ان صارفین کے بجلی بل کس طریقے سے تیار کیے جائیں گے۔کے سی سی آئی نے کہا کہ بجلی کے نئے ٹیرف نظام کے نفاذ کے ساتھ شفافیت، صارفین میں مناسب آگاہی اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی ہونا چاہیے۔چیمبر کے مطابق صارفین کو اپنے بجلی کے بل موصول ہونے کے بعد پہلی مرتبہ نئے ٹیرف کے مالی اثرات کا علم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حکومت اور متعلقہ بجلی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے ہی صارفین کو نئے نظام کی مکمل معلومات فراہم کریں۔کے سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ نئے ٹیرف کے نفاذ سے قبل اور اس کے دوران صارفین کو واضح رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ غلط فہمیوں، اضافی مالی بوجھ اور شکایات سے بچا جا سکے۔