بینک ریکارڑ کو قانونی کارروائی میں ثبوت کے طور استعمال کرنے کا معاملہ

بینک ریکارڑ کو قانونی کارروائی میں ثبوت کے طور استعمال کرنے کا معاملہ

بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ 2026 یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا

سرینگر//ٹی ای این / بینکنگ ریکارڈز کو قانونی کارروائی میں ثبوت کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق نیا قانون ’’بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ 2026‘‘ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ یہ قانون 1891 کے پرانے بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ کی جگہ لے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق نئے قانون کا مقصد بینکنگ ریکارڈز سے متعلق قانونی نظام کو موجودہ دور کی بینکنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق بنانا ہے۔ صدر جمہوریہ نے 13 اگست 2026 کو اس قانون کی منظوری دی تھی۔مرکزی حکومت نے 10 ستمبر 2026 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے یکم اکتوبر 2026 کو قانون کے نفاذ کی تاریخ مقرر کی ہے۔نئے قانون کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بینکنگ ریکارڈز کی مختلف جدید شکلوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کاغذی ریکارڈ کے علاوہ الیکٹرانک، ڈیجیٹل، ورچوئل، کلاؤڈ اور دیگر جدید ذرائع سے محفوظ کیے گئے بینکنگ ریکارڈز کو بھی قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکے گا۔قانون میں بینکنگ ریکارڈز کی تصدیق کا طریقہ بھی آسان بنایا گیا ہے۔ قانونی کارروائی کے لیے ریکارڈز کی تصدیق دستی دستخط کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل یا الیکٹرانک دستخط کے ذریعے بھی کی جا سکے گی۔نئے قانون میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی مقدمے میں بینک فریق نہ ہو تو بینک کے کسی افسر کو عدالت میں طلب کرنے کے لیے خصوصی وجہ ضروری ہوگی۔ایسی صورت میں عدالت کو بینک افسر کو طلب کرنے کی ’’خصوصی وجہ‘‘ تحریری طور پر درج کرنا ہوگی۔ اس سے بینک افسران کو غیر ضروری طور پر عدالتی کارروائی میں طلب کیے جانے کے امکانات کم ہوں گے۔مرکزی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق قانون کی دفعات کو مالیاتی شعبے کے مخصوص اداروں یا اداروں کی مخصوص اقسام پر نافذ کر سکے۔ اس طرح مستقبل میں مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق قانون میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔حکومت کے مطابق نئے قانون کا مقصد بینکنگ نظام میں ہونے والی تکنیکی ترقی کے مطابق قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کو جدید بنانا، کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور مالیاتی نظام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔نیا قانون 130 سال سے زیادہ پرانے قانونی نظام کی جگہ لے گا اور خاص طور پر بینکنگ ریکارڈز کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی طریقہ کار کو جدید بنائے گا۔